منگل، 12 نومبر، 2024

مفتی اسمعیل صاحب کی بیماری اور دیگر لیڈران کا سلوک


✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی 
      (امام وخطیب مسجد کوہ نور)

قارئین کرام ! شہر عزیز مالیگاؤں اپنی متعدد خوبیوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے رہنے والے ایک دوسرے سے محبت کرتے اور آپس میں مِل کر رہتے ہیں، ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شریک رہتے ہیں۔ البتہ اسمبلی اور کارپوریشن الیکشن کے ایام میں یہاں ماحول کچھ خراب ہوجاتا ہے۔ اس وقت ایک بڑی تعداد اپنے آپ کو بہت بڑا مفکر اور دانشور سمجھنے لگتی ہے۔ اور جس لیڈر اور امیدوار کو وہ پسند کرتے ہیں اس کو اچھا، سچا اور سب سے زیادہ با صلاحیت اور مخالفت پارٹی کے امیدوار کو جھوٹا، نا اہل، اور بے ایمان ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ اپنے لیڈر کی ہر برائی کی تاویل اور مخالف لیڈر کی ہر اچھائی انہیں مکاری اور عیاری نظر آتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے یہ رویہ نہ تو شرعاً درست ہے اور نہ ہی اخلاقاً۔ اسی رویے کی وجہ سے تمام پارٹیوں کے ورکر دن ورات سوشل میڈیا پر آپس میں ایک دوسرے سے بحث وتکرار کرتے رہتے ہیں، اور بات قلبی بغض وعداوت سے ہوتی ہوئی گالی گلوچ اور ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے۔ شہر میں یہی سب کچھ چل رہا تھا کہ کل بروز پیر دوپہر میں یہ انتہائی تکلیف دہ خبر پڑھنے کو ملی کہ رکن اسمبلی مفتی محمد اسمعیل صاحب قاسمی کو دل کا عارضہ لاحق ہوا ہے اور انہیں ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ یہ اطلاع جیسے ہی دیگر لیڈران کو ملی سب نے اپنی ترتیب بناکر ان سے ملاقات کرکے ان کی عیادت کی اور اپنا انسانی اور دینی وملی فریضہ ادا کیا۔ سب سے پہلے مفتی صاحب کے اصل مقابل شیخ آصف ہسپتال پہنچے اور ان کے بعد بالترتيب شان ہند صاحبہ، مستقیم ڈگنٹی اور اعجاز بیگ صاحب ہسپتال پہنچے اور اپنی فکرمندی کے اظہار کے ساتھ دعائیں بھی دی اور شہریان سے دعا کی درخواست بھی کی۔
 
مفتی صاحب کے پرانے ساتھی (جو فی الحال سماج وادی پارٹی میں ہیں) اطہر حسین اشرفی صاحب نے پُر نم آنکھوں سے مفتی صاحب سے اپنی ذاتی تعلق کا اظہار کیا اور کہا کہ میرا ان سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے۔ 

فی الحال اطلاع یہ ہے کہ مفتی محمد اسمعیل صاحب کو بغرض علاج بمبئی لے جایا گیا ہے، جہاں ان کا آپریشن بھی ہوسکتا ہے۔ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں شفائے کاملہ عاجلہ دائمہ عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین 

شہر کے سیاسی لیڈران کا یہ حسنِ سلوک بڑی خوش آئند بات ہے اور تمام پارٹیوں کے ورکروں کے لیے اس میں بڑا سبق اور سیکھ ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ اور انسانیت، دینی وملی فریضہ اپنی جگہ۔ اس لیے سیاسی اختلافات میں اس حد تک نہ جائیں کہ بعد میں ملاقات کرنے میں جھجھک محسوس ہو۔ اپنا مدعا مدلل اور اچھے انداز میں رکھ دیں اور خاموش ہوجائیں، ہر بات کا جواب دینا اور ہر واقعہ پر تنقید کرنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔ ایسے موقع کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان عالیشان ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ : اپنے دوست کے ساتھ میانہ روی کا معاملہ رکھو۔ شاید کسی دن وہ تمہارا دشمن بن جائے اور دشمن کے ساتھ دشمنی میں بھی میانہ روی ہی رکھو، کیونکہ ممکن ہے کہ کل وہی تمہارا دوست بن جائے۔ (ترمذی)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اختلاف کے حدود وقیود کی رعایت کرنے اور ہم سب کو اختلاف کے باوجود آپس میں مل کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین

9 تبصرے:

  1. Aameen summa aameen ya rabbul alamin

    جواب دیںحذف کریں
  2. آمین یا رب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
  3. آمین ثم آمین یا رب العالمین

    جواب دیںحذف کریں
  4. ماشاءاللہ بہت اچھا رویہ اختیار کیا تمام سیاسی لیڈروں نے اللہ تعالیٰ تمام لیڈروں جزاۓ خیر عطافرمائے آمین

    جواب دیںحذف کریں
  5. ماشاء اللہ بہت خوب
    آپ کی پوسٹ قابلِ تعریف ہے
    🌹🌹

    جواب دیںحذف کریں
  6. *انصاری اعجاز احمد*

    جواب دیںحذف کریں
  7. الحمدللہ بہت خوب مفتی صاحب
    ذوالفقار علی اکبر علی
    گلشن آباد مالیگاؤں 7066111543

    جواب دیںحذف کریں