ہفتہ، 25 مارچ، 2023

وتر میں امام کے سہو سے مقتدی کا رکوع چھوٹ جائے تو؟

سوال :

عرض یہ کرنا ہے کہ امام اگر وتر میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے اور رکوع میں چلا جائے اور پیچھے لوگوں نے دعائے قنوت پڑھنا شروع کیا اور امام رکوع پورا کرنے کے بعد اٹھ کر سجدہ سہو کے ساتھ نماز پوری کرتا ہے لیکن کچھ لوگوں کا رکوع چھوٹ گیا تھا تو وہ کیا کریں؟
(المستفتی : شیخ سعد، پونے)
----------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : صورتِ مسئولہ میں جن لوگوں کا سرے سے رکوع چھوٹ گیا، اور ان لوگوں نے بعد میں سلام سے پہلے پہلے یہ رکوع ادا نہیں کیا تو فرض چھوٹنے کی وجہ سے ان کی نماز باطل ہوگئی، لہٰذا یہ لوگ اپنی نماز وتر دوہرا لیں۔

الْأَصْلُ فِي هَذَا أَنَّ الْمَتْرُوكَ ثَلَاثَةُ أَنْوَاعٍ فَرْضٌ وَسُنَّةٌ وَوَاجِبٌ فَفِي الْأَوَّلِ أَمْكَنَهُ التَّدَارُكُ بِالْقَضَاءِ يَقْضِي وَإِلَّا فَسَدَتْ صَلَاتُهُ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ : ١/١٢٦)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
02 رمضان المبارک 1444

جمعہ، 24 مارچ، 2023

روزہ کی نیت کرنے کے بعد کھانا پینا

سوال :

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین درمیان مسئلہ ھذا کے کہ کیا روزے کی نیت کرلینے کے بعد کھانا پینا جائز نہیں ہے؟ جبکہ ابھی صبح صادق ہونے میں کافی وقت باقی ہو۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے نیت کرلی ہے اب ہمارا کھانا پینا درست نہیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ مفصل رہنمائی فرمائیں۔
(المستفتی : ظہیر الدین، مالیگاؤں)
----------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : روزہ کی ابتداء صبح صادق سے ہوتی ہے، اس سے پہلے روزہ شروع نہیں ہوتا خواہ روزے کی نیت کیوں نہ کرلی گئی ہو، لہٰذا اگر کسی نے سحری کرنے کے بعد روزہ کی نیت کرلی جبکہ ابھی صبح صادق میں کافی وقت باقی ہے اور دوبارہ اسے کھانے یا پینے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کا صبح صادق تک کھانا پینا سب بلاتردد جائز ہے۔ اس نیت کی وجہ سے اس پر کھانا پینا وغیرہ ممنوع نہ ہوگا۔ لہٰذا جو لوگ کہتے ہیں کہ روزہ کی نیت کرنے کے بعد ہمارا کھانا پینا جائز نہیں، ان کی بات بالکل بے بنیاد ہے، انہیں اپنی اصلاح کرلینی چاہیے۔

قال اللہ تعالیٰ : وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الَاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ، ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیَامَ اِلٰی اللَّیْلِ۔ (سورۃبالبقرۃ، آیت : ۱۸۷)

أباح تعالیٰ الأکل والشرب مع ما تقدم من إباحۃ الجماع في أي اللیل شاء الصائم إلی أن یتبین ضیاء الصباح من سواد اللیل … فأباح الجماع والطعام والشراب في جمیع اللیل رحمۃ ورخصۃ ورفقاً۔ (تفسیر ابن کثیر، ۱۵۰ دار السلام ریاض)

وَهُوَ إمْسَاكٌ عَنْ الْمُفْطِرَاتِ حَقِيقَةً أَوْ حُكْمًا فِي وَقْتٍ مَخْصُوصٍ وَهُوَ الْيَوْمُ مِنْ شَخْصٍ مَخْصُوصٍ مَعَ النِّيَّةِ ۔ (درمختار) وفي الشامیۃ قولہ : وَهُوَ الْيَوْمُ أَيْ الْيَوْمُ الشَّرْعِيُّ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ إلَى الْغُرُوبِ۔ (شامی : ٢/٣٧١)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
01 رمضان المبارک 1444

منگل، 21 مارچ، 2023

امام کو نذرانہ دینے کے لیے جمع کی گئی رقم پوری امام کو نہ دینا

سوال :

ہماری مسجد میں ائمہ تراویح کے نذرانہ کے لیے اچھی خاصی رقم (لاکھ دیڑھ لاکھ) جمع ہوتی ہے مگر ائمہ کرام کو معمولی رقم دے کر رخصت کردیا جاتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ائمہ کرام کے لیے جمع کردہ رقم کو مسجد کے کسی دوسرے مصرف میں استعمال کیا جاسکتا ہے جب کہ مصلیان کو اس کی کچھ بھی اطلاع یا اجازت نہ لی گئی ہونہ بعد میں حساب پیش کیا گیا ہو؟
(المستفتی : عبداللہ، مالیگاؤں)
----------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : ائمہ تراويح کو نذرانہ دینے کے لیے جو رقم جمع کی گئی ہے اس کا مصرف ائمہ کرام ہی ہیں، لہٰذا جتنی رقم جمع ہوئی ہے پوری پوری ائمہ کرام کو دے دینا چاہیے اس میں سے کچھ رقم بچاکر کسی اور مصرف میں مثلاً مسجد کی تعمیر وغیرہ میں لگانا جائز نہیں ہے۔ جن لوگوں نے یہ رقم مسجد میں لگادی ہے ان پر ضروری ہے کہ ائمہ کو یہ رقم واپس کریں۔

إنَّ شَرَائِطَ الْوَاقِفِ مُعْتَبَرَةٌ إذَا لَمْ تُخَالِفْ الشَّرْعَ وَهُوَ مَالِكٌ، فَلَهُ أَنْ يَجْعَلَ مَالَهُ حَيْثُ شَاءَ مَا لَمْ يَكُنْ مَعْصِيَةً۔ (شامی : ٤/٣٦٦)

شَرْطُ الْوَاقِفِ كَنَصِّ الشَّارِعِ أَيْ فِي الْمَفْهُومِ وَالدَّلَالَةِ، وَوُجُوبِ الْعَمَلِ بِهِ۔ (شامی : ٤/٣٦٦)

شَرْطُ الواقِفِ يَجِبُ اتِّباعُهُ لِقَوْلِهِمْ: شَرْطُ الواقِفِ كَنَصِّ الشّارِعِ أيْ فِي وُجُوبِ العَمَلِ بِهِ، وفِي المَفْهُومِ والدَّلالَةِ۔ (الاشباہ والنظائر : ١/١٦٣)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
28 شعبان المعظم 1444

اتوار، 19 مارچ، 2023

تین یا چھ دن والی تراویح


        ایک منصفانہ جائزہ اور درخواست

قارئین کرام! گذشتہ چند سالوں سے چھ دن والی تراویح کا انتظام بڑھتا جارہا ہے۔ ہر سال اس مسئلے پر متعدد سوال یا درخواست آتی ہے کہ اس پر کچھ لکھا جائے، لیکن مصروفیات اور موضوع تفصیل طلب ہونے کی وجہ سے اس پر طبع آزمائی مؤخر ہوتی رہی، لیکن اس مرتبہ کوشش کرکے کچھ لکھا جارہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماکر ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

محترم قارئین! رمضان المبارک کا چاند نظر آنے سے لے کر شوال کا چاند نظر آنے تک پورے مہینے تراویح کی بیس رکعت ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے جس کا بلاعذر شرعی ترک کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔ اسی طرح تراویح میں مکمل قرآن مجید سننا ایک الگ سنت ہے۔ لہٰذا ان دونوں سنتوں پر عمل ہونا چاہیے۔ اور اس کی بہتر ترتیب یہی ہے کہ ایک یا سوا پارہ روزآنہ تراویح میں پڑھا جائے تاکہ سکون اطمینان سے ہر عمر کے لوگوں کو تراویح پڑھنے میں آسانی ہو۔

لیکن چند سالوں سے ہمارے یہاں چھ دن کی تراویح کا نظم بڑے بڑے میدانوں میں ہورہا ہے جن میں ایک بڑا مجمع ہوتا ہے، جس میں متعدد شرعی قباحتیں ہیں، جنہیں دارالعلوم دیوبند کے ایک طویل فتوی میں لکھا گیا ہے کہ ۳/۵/۷/دن میں ختم قرآن کا جو رواج شہروں میں پایا جارہا ہے، اس میں بالعموم درج ذیل مفاسد کل یا بعض پائے جاتے ہیں :

١) تجوید کو جلدی کی وجہ سے ترک کردیا جاتا ہے، بعض جگہ تو اس قدر پڑھنے میں جلدی کی جاتی ہے کہ حروف سمجھ میں نہیں آتے، نہ زبر کی خبر نہ زیر کی، نہ غلطی کا خیال، نہ تشابہ کا۔

٢) جماعت میں شرکت کرنے والوں کاآدابِ استماع کا ضائع کرنا؛ کوئی بیٹھا ہے، تو کوئی سو رہا ہے، تو کوئی باتیں کر رہاہے، تو کوئی امام کے رکو ع میں جانے کا منتظر ہے، کوئی ” إذا قاموا إلَی الصّلاة قاموا کسالٰی“ کا مصداق بنا ہوا ہے، لوگوں کا شور وشغب کرنا، اور ان کے آمد ورفت کی چہل پہل مستزاد ہے۔

٣) بہت کم لوگ قرآن سے شغف یا اس کے سننے سے دلچسپی کی وجہ سے شرکت کرتے ہیں۔

٤) اکثر لوگ رمضان کے باقی دنوں کی تراویح سے چھٹی حاصل کرنے کی غرض سے شریک ہوتے ہیں۔

٥) ریاء ونمائش کے ساتھ ۳/۵/۷/ دن میں ختم قرآن کا انتظام واعلان کیا جانا، دعوت شیرینی کا اہتمام ہونا۔

٦) اس کے لیے باقاعدہ چندہ کیا جانا، اس وقت نوجوانوں میں اس رسمی مروجہ ختم قرآن کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے مسجدوں میں نماز تراویح کے لیے لوگوں کی شرکت کم ہونے لگی، بھیڑ نمازیوں کی ان جگہوں میں اکٹھا ہوتی ہے، جہاں ۳ / ۵ / ۷ /دنوں میں ختم قرآن کا اہتمام کیا جاتا ہے، پھر ان مسجدوں میں بھی اخیر ماہ مبارک تک تراویح میں اقل قلیل افراد رہ جاتے ہیں، اور ختم قرآن کے بعد باقی دنوں میں کم ہی لوگ تنہا یا جماعت سے نماز تراویح ادا کرنے کی فکر کرتے ہیں۔ (رقم الفتوی : 60129)

اس طرح کی تراویح کے نقصان پر حضرت مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی لکھتے ہیں :
سب سے بڑا نقصان تو یہ ہے کہ ایک ختم کے بعد بہت سے لوگ تروایح کی نماز ہی نہیں پڑھتے ، حالانکہ وہ پورے ماہ مسنون ہے اور بالخصوص اہل تجارت اور کاروباریوں کے یہاں تو یہ عام بات ہوگئی ہے کہ ایک ختم ایک ہفتہ میں کر لیا اور اس کے بعد تروایح ہی چھوڑ دی۔

دوسرے اس سے قرآن کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ بوڑھوں ، کمزوروں اور معذوروں میں سے بہت سے لوگ جماعت میں شریک ہوتے ہیں، وہ مجبورا شریک رہتے ہیں، حالانکہ متمکن اور تعب و کمزوری کی وجہ سے قرآن مجید سننے سے غافل اور بے توجہ ہو جاتے ہیں چند ہی لوگ ہوتے ہیں جو اس قدر قرآن بشاشت اور توجہ سے سنتے ہوں۔

تیسرے اس سے تلاوت میں ترتیل، الفاظ کی صحیح ادائیگی کی رعایت نہیں ہوتی اور یہ بھی مکروہ ہے .... حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم  سے مروی ہے، ترتیل کے ساتھ کم پڑھنا، ترتیل کے بغیر زیادہ اور تیز پڑھنے سے بہتر ہے ۔
یہ تو ترتیل کی بات ہے۔ راقم الحروف کا تجربہ ہے کہ اس قسم کے زیادہ پڑھنے والے حفاظ اکثر اس طرح پڑھتے ہیں کہ قرآن مجید کے الفاظ بھی سمجھ میں نہیں آتے ۔

چوتھے آج کل یہ ایک طرح کا مظاہرہ ہوگیا ہے کہ ہر حافظ اپنی تیز رفتاری اور حفظ کا مظاہرہ کرتا ہے اور اسے اپنے لئے فخر ومباہات کا ذریعہ بنالیتا ہے اور ظاہر ہے اس کی کراہت میں کیا شبہ ہوسکتا ہے؟ (جدید فقہی مسائل :135/1)

چند سالوں پہلے ایک صاحب نے چھ دن کی تراویح کی غلط انداز میں میں حمایت کرنے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے لکھا تھا کہ :
مفتی صاحب جو لوگ سرے سے تراویح پڑھتے ہی نہیں ہیں ان کے بارے میں شریعت میں کیا حکم ہے؟

بندہ کا جواب 
آپ نے یہ سوال جس تناظر میں کیا ہے بندہ اسے خوب سمجھ رہا ہے، کیونکہ یہ سوچ بھی انتہائی غیرمناسب ہے اس لیے ضروری محسوس ہوا کہ اس پر کچھ لکھا جائے تاکہ ایک غلط فکر کی اصلاح ہوسکے۔

آپ خود حافظ ہیں اور ماشاءاللہ تراویح بھی پڑھارہے ہیں آپ کو اس کا علم نہیں ہے کہ تراویح سنتِ مؤکدہ ہے؟ اور سنت مؤکدہ کا بلاعذر ترک کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے؟

مجھے بتائیں کہ کیا کوئی زمانہ ایسا گذرا ہے جس میں تمام مسلمان سو فیصد فرائض پر عمل کررہے ہوں؟ اگر کہیں کچھ مسلمان فرائض کو چھوڑ کر زندگی گذار رہے ہوں تو وہاں کے مسلمانوں میں سنتوں کی اہمیت بتانا اور تاکیدی سنتوں کے ترک پر وعید سنانا ناجائز ہوگا؟

مجھے یہ بھی بتائیں کہ فقہاء نے مکروہ تحریمی و تنزیہی کی اصطلاحات کیوں وضع کی ہیں؟ اور آپ کو یہ معلوم ہے کہ مکروہ تحریمی اور تنزیہی کا حکم کب لاگو ہوتا ہے؟

اگر نہیں معلوم تو جان لیجیے کہ سنتوں کے ترک کی وجہ سےکبھی مکروہ تحریمی کا حکم لگتا ہے کبھی مکروہ تنزیہی کا۔ تو فقہاء نے جب یہ اصطلاحات وضع کی تھیں اس وقت کسی نے انہیں یہ تو نہیں کہا ہوگا کہ امت تو فرائض کو چھوڑ کر زندگی گذار رہی ہے آپ سنتوں میں کہاں پریشان ہیں؟ جائیں جاکر پہلے فرائض کا ترک کرنے والوں کو فرائض پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دیں، اس کے بعد سنتوں کے ترک کرنے والوں پر حکم لگائیں۔

مجھے یہ بھی بتائیں کہ اگر اس وقت یہ نہیں کہا گیا ہے تو آج چھ دن یا دس دن تراویح پڑھ کر چھوڑ دینے کی برائی کو کوئی بیان کررہا ہے اور اس کے متعلق کوئی لکھ رہا ہے یا بول رہا ہے تو اس کی نیت پر کیوں شک کیا جارہا ہے؟ کیوں ایسے لوگوں کو پہلے فرائض کی دعوت دینے کا حکم دیا جارہا ہے؟ کیا ایسے کہنے کی وجہ سے ایک عظیم سنت کی اہمیت کم نہیں ہورہی ہے؟ اور ایک عظیم سنت کے ترک کرنے والوں کو نادانستہ طور پر شہہ نہیں دی جارہی ہے؟

کیا ایسے کہنے کی وجہ سے یہ گمان نہیں ہوتا کہ کتب فقہ و فتاوی میں مکروہات کے باب ہی ختم کردئیے جائیں اور ان کو بیان کرنا بند کردیا جائے کیونکہ ابھی تو امت کا ایک طبقہ فرائض پر بھی عمل پیرا نہیں ہے۔

ہمیں بتائیں کیا ایسا کہنا شریعت کے مزاج کے خلاف نہیں؟

اس کا کیا مطلب لیا جائے کہ کہیں بڑے گناہ ہورہے ہوں تو وہاں چھوٹے گناہ پر نکیر کرنے اور روکنے ٹوکنے کا بھی حق ختم ہوجاتا ہے؟

لہٰذا آپ سے اور اس جیسی باتیں جو بھی لکھ رہا ہے اور بول رہا ہے ان سب سے ہماری عاجزانہ و مخلصانہ درخواست ہے کہ ان سوالوں کے جواب ضرور عنایت فرمائیں۔

ان صاحب کی طرف سے مزید کچھ باتیں آئیں کہ :
مفتی صاحب کتنے تو وہ ہوتے ہے جو تراویح  پڑھتے ہی نہیں تھے لیکن اب الحمدللہ چھ دن والی تراویح تو کچھ لوگ پڑھ لیتے ہیں اور اب لوگ اس کو بھی بند کروانا چاہ رہے ہیں۔

جی ہاں! وہ تو پتہ ہے تراویح سنت مؤکدہ ہے اور تراویح کے اندر قرآن کریم ختم کرنا یہ ایک الگ سنت ہے اب سوال ان لوگوں سے ہے کیا جو تراویح سرے سے پڑھتے ہی نہیں اور جو چھ دن والی پڑھ لیتے ہیں تو کیا جو سرے سے پڑھتے ہی نہیں اور جو چھ دن والی پڑھ لیتے ہیں، دونوں برابر ہیں؟ اور کچھ لوگ چھ دن والی بند کرانے کی چکّر میں ہیں تو پھر کیا قباحت ہے چھ دن والی میں؟

جس پر بندہ کا جواب 
اصل میں یہ سوال ہی صحیح نہیں ہے۔

اگر کچھ لوگ مکمل طور پر سنت ترک کر رہے ہیں اور بعض لوگ کچھ حصہ ترک کررہے ہیں تو پہلے طبقہ کی وجہ سے دوسرے پر نکیر کرنا بند کردیا جائے گا؟

مکمل طور پر چھوڑنے والوں کو کون ایوارڈ دے رہا ہے؟ ان کی کون سی تعظیم و تکریم کی جارہی ہے کہ بار بار انہیں بیچ میں لایا جارہا ہے؟

حقیقت تو یہی ہے کہ جب چھ دن یا دس دن والی تراویح کا جگہ جگہ اہتمام نہیں تھا تب لوگ کسی نہ کسی طرح پہلی اور دوسری تراویح میں اپنے کاروبار کو آگے پیچھے کرکے تراویح کے لیے پہنچ جایا کرتے تھے۔ لیکن آج چھ دن یا دس کے نام پر بقیہ دن مکمل چھٹی مل رہی ہے تو کیونکر مہینہ بھر یہ لوگ تراویح پڑھیں گے؟

کچھ لوگ مکمل طور پر تراويح چھوڑ کر یہ گمان رکھتے ہوں کہ ہم نے گناہ کیا ہے تو امید ہے کہ انہیں توبہ کی توفیق ہوجائے۔ لیکن بعض لوگ چند دن پڑھ کر یہ سمجھیں کہ ہم نے مکمل سنت ادا کرلی تو کیا انہیں توبہ کی توفیق ہوگی؟

اس لئے احساس بہرحال چند دن پڑھنے والوں کو بھی کرایا جائے گا۔ مکمل طور پر چھوڑنے والوں کو بیچ میں لاکر ان کا جرم کم کرنے کی اور انہیں شہہ دینے کی کوشش یقیناً مذموم ہی ہے۔

اگر چھ دن والی تراویح کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بالکل کھل کر سامنے آجائے گی کہ اس میں کم از کم 80 فیصد مجمع ان لوگوں کا ہوتا ہے جو چھ دن تراویح پڑھ کر بقیہ دن چھٹی کرنے کے مقصد آتے ہیں، کیونکہ اتنا بڑا مجمع تو بہرحال سفر پر جانے والا نہیں ہے۔ اور ان میں بھی اکثریت کی تعداد ایسی ہوتی ہے جو پہلی رکعت میں رکوع تک بیٹھا بات چیت کررہا ہوتا ہے، اور جب امام رکوع میں جاتا ہے تو یہ لوگ بھی رکوع میں چلے جاتے ہیں، اب جبکہ انہوں قرآن کا یہ حصہ تراویح میں سنا ہی نہیں بلکہ نماز کے باہر رہا تو ان کا قرآن تو ادھورا رہ گیا۔ تو پھر ان کا چھ دن تراویح سننے کا مقصد ہی فوت ہوگیا۔

اگر ان سے حسن ظن رکھا جائے کہ بقیہ ایام یہ افراد الم تر کیف سے تراویح پڑھتے ہیں تو شہر کی ایسی کون سی مسجد ہے جہاں ساتویں دن سے الم تر کیف سے تراویح پڑھائی جاتی ہے؟ اور کیا یہ ہزاروں کا مجمع وہیں پہنچ جاتا ہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ یہ لوگ کہیں اور الم ترکیف سے تراویح پڑھ لیتے ہیں تو پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ اس میں آپ کو کتنا وقت لگتا ہے؟ بلاشبہ اس میں بھی عشاء کی نماز کے ساتھ کم از کم پون گھنٹہ لگے گا۔ جبکہ سوا پارے والی تراویح میں عموماً سوا گھنٹہ لگتا ہے، اب ان سے سوال ہے کہ آپ یہ آدھا گھنٹہ بچاکر کون سا تیر مار رہے ہیں؟ کون سا آپ لاکھوں کروڑوں کا بزنس کرلیتے ہیں؟ غالب گمان ہے کہ یہ آدھا گھنٹہ آپ کا فضولیات اور لغویات میں ہی صَرف ہوتا ہوگا تو پھر سوا پارے والی تراویح اطمینان سے سننے میں آپ کو کس بات نے روکا ہے؟ آپ ایک سال اس پر عمل کرکے تو دیکھیں، ہمارا دعوی ہے کہ ان شاء اللہ آپ کی تجارت وغیرہ سارے کام عافیت کے ساتھ پورے ہوجائیں گے اور ان شاء اللہ اس میں خوب برکت بھی ہوگی۔

اسی طرح ضروری سفر پر جانے والوں کو بھی بہت پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ عموماً مساجد میں شروعات میں سوا یا دیڑھ پاروں کی ترتیب ہوتی ہے، لہٰذا اپنی ترتیب کے مطابق مسجد معلوم کرکے وہاں تراويح ادا کرلی جائے جو کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ لیکن اگر خدانخواستہ کہیں سے کچھ چھوٹ جائے تو بعد میں کسی حافظ سے درخواست کرکے تراویح میں اتنا قرآن سن لیا جائے تو قرآن مجید مکمل ہوجائے گا۔ اور اگر باوجود کوشش کے آپ کا قرآن ناقص رہ گیا تو تڑپ اور کوشش کی وجہ سے آپ کو ان شاء اللہ مکمل قرآن سننے کا ثواب ضرور مل جائے گا۔

لہٰذا اخیر میں ہماری ان مخلص انتظامیہ سے مؤدبانہ اور عاجزانہ درخواست ہے کہ آپ بلاشبہ نیکی کے جذبہ سے یہ کام کررہے ہیں، لیکن اندیشہ ہے کہ دن بدن آپ کا یہ عمل نیکی برباد گناہ لازم کا مصداق نہ بن جائے، اس لیے تین اور چھ دن والی تراویح کا نظم جو بڑے بڑے ہال اور میدانوں میں ہوتا ہے انہیں بند کردینے میں ہی عافیت معلوم ہوتی ہے۔


نوٹ : سالِ گذشتہ انصار جماعت خانہ میں ہونے والی چھ دن کی تراویح جہاں ایک بہت بڑی تعداد تراویح ادا کرتی تھی، وہاں کے ذمہ داروں (ناولٹی خانوادہ) نے ماشاء اللہ مفتیان کرام کی درخواست پر غور کرتے ہوئے وہاں چھ دن کی تراویح بند کردی ہے۔


اسی طرح امسال شیخ عثمان ہائی اسکول میں ہونے والی تراویح کے انتظامات کرنے والے ذمہ داران نے بھی چھ دن کی تراویح بند کرنے کا قابل تحسین فیصلہ کیا ہے۔


اللہ تعالیٰ انہیں استقامت عطا فرمائے، انہیں بہترین بدلہ عطا فرمائے اور ہم سب کو رمضان المبارک کے تمام اعمال کو کماحقہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

حج یا عمرہ کی روانگی کے وقت اجتماعی دعا کرنا

سوال :

محترم مفتی صاحب! کسی کے حج یا عمرہ پر جانے کے وقت، گاڑی میں سوار ہونے سے قبل، کسی عالم/ مولانا / مولوی صاحب کو بلوا کر اجتماعی دعا (رشتے دار ، گلی محلے کے مرد و عورتوں کو جمع کروا کر )کروانا، کیا یہ عمل بہتر ہے؟ کیا یہ دین میں نئی ایجاد تو نہیں؟ جو آگے چل کر بڑھ جائے۔ رہنمائی فرمائیں۔
(المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں)
----------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : سفرِ حج یا عمرہ کی روانگی کے وقت اجتماعی دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں ہے۔ البتہ اگر عازم حج یا عمرہ انفرادی طور پر دعا کرے جس میں کچھ لوگ جمع ہوجائیں اور اجتماعی شکل بن جائے تو اس میں حرج نہیں۔ لیکن آج کل لوگ اس دعا کو ضروری سمجھنے لگے ہیں بغیر اجتماعی دعا کئے نکلتے ہی نہیں ہیں اور اس کے لیے مسجد کے امام کو یا کسی حافظ یا عالم کو بلوا کر دعا کرانا ضروری سمجھتے ہیں جو بلاشبہ دین میں زیادتی ہے، لہٰذا اس کی اصلاح ضروری ہے۔ تاہم اگر کوئی اس وقت دعا کو ضروری سمجھے بغیر کرلے یا کسی سے کروالے تو اس کی گنجائش ہوگی۔ لیکن اس کے لیے محلہ کی عورتوں کو جمع کرنا یا ان کا خود وہاں جانا بالکل بھی درست نہیں ہے۔

عن العرباض بن ساریۃ رضي اللّٰہ عنہ قال : قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذات یوم في خطبتہ…: إیاکم ومحدثات الأمور، فإن کل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ۔ (سنن أبي داؤد، رقم : ٤٦٠٧)

عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ۔ (صحیح مسلم، رقم : ١٧١٨)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامرعثمانی ملی
26 شعبان المعظم 1444

جمعہ، 17 مارچ، 2023

میت کے گھر والوں کا قبر کی مٹی چاٹنا

سوال :

مفتی صاحب زید کا انتقال ہوا تھا تو گھر میں موجود افراد کو مرحوم کی یاد بہت آرہی ہے تو گھر کے افراد بہت رو رہے ہیں۔ محلہ کے افراد کہنا ہے کہ قبر کی مٹی لا کے چٹا دو تو ان کو صبر آجائے گا مرحوم کے انتقال کو تین دن مکمل ہو چکا ہے۔ شریعت اس کی اجازت دیتی ہے یا نہیں؟ جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔
(المستفتی : محمد حمزہ، مالیگاؤں)
----------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : کسی رشتہ دار کے انتقال پر بغیر آواز اور شکوے شکایت کے رونا جائز ہے۔ اور تین دن سے زیادہ سوگ کی اجازت نہیں ہے۔ لہٰذا گھر والوں کو صبر کرنا چاہیے اور اس پر ثواب کی امید رکھنا چاہیے۔

صورتِ مسئولہ میں گھر والوں کو صبر آجائے اس کے لیے انہیں قبر کی مٹی چٹانا قرآن و حدیث اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے ثابت نہیں ہے یہ بالکل بے بنیاد عمل اور بے وقوفی ہے، لہٰذا اس سے بچنا ضروری ہے۔

عن العرباض بن ساریۃ رضي اللّٰہ عنہ قال : قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذات یوم في خطبتہ…: إیاکم ومحدثات الأمور، فإن کل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ۔ (سنن أبي داؤد، رقم : ٤٦٠٧)

عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ۔ (صحیح مسلم، رقم : ١٧١٨)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
24 شعبان المعظم 1444

تسبیح تراویح کے پوسٹرس


    ایک قابل توجہ مسئلہ
✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی
     (امام وخطیب مسجد کوہ نور)

قارئین کرام! نیکیوں کے موسم بہار ماہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس کی تیاریوں میں مصروف ہیں، ابھی دو چار دنوں میں تسبیح تراویح کے بڑے بڑے پوسٹرس، مختلف رنگوں اور مختلف ڈیزائنوں میں بہت سے افراد ایصالِ ثواب کی نیت سے  بڑی تعداد میں تقسیم کریں گے جنہیں مساجد میں قبلہ رخ دیواروں پر چسپاں کیا جاتا ہے، لہٰذا یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اس مشہور تسبیح تراویح کی فقہی حیثیت کیا ہے؟ تاکہ ہم اس کے درجہ کے مطابق اس پر عمل کریں اور افراط وتفریط سے بچ سکیں۔

تراویح کی بیس رکعات دس سلاموں سے پڑھی جائیں گی اور ان میں ہر ترویحہ یعنی ہر چار رکعت اور وتر کے درمیان کچھ دیر ٹھہرنا مستحب ہے۔

ترویحہ کے لئے کوئی خاص عبادت متعین نہیں ہے، بلکہ اس بات کا اختیار ہے خواہ ذکر اذکار کیا جائے، یا تلاوت کی جائے یا پھر انفرادی طور پر نفل بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ بعض فقہاء سے یہ تسبیح سبحان ذی الملک والملکوت ۔۔۔ الخ  کا پڑھنا منقول ہے، اس لیے یہ تسبیح بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ یعنی تسبیح تراویح کا پڑھنا صرف جائز ہے، فرض واجب یا سنت نہیں۔ اس لئے کہ کسی حدیث شریف میں اس کا حکم یا ترغیب یا آپ صلی اللہ علیہ و سلم و صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کا اس پر عمل مذکور نہیں ہے، بلکہ فقہ حنفی کی کتابوں میں سب سے پہلے یہ دعا قہستانی کی شرح وقایہ میں ملتی ہے، اور قہستانی نے اس کا حوالہ "منہج العباد" نامی کتاب کا دیا ہے، پھر قہستانی کی کتاب سے علامہ شامی نے "رد المحتار" میں نقل کیا ہے، پھر ردالمحتار سے یہ دعا کتب فقہ وفتاوی میں رائج ہوگئی۔ پس اسے فرض، واجب یا سنت نہ سمجھتے ہوئے پڑھنے کی گنجائش ہے۔ البتہ اسے فرض واجب یا سنت سمجھتے ہوئے پڑھنا نیز جہراً پڑھنا جائز نہیں ہے۔

مذکورہ تسبیح کے علاوہ وہ اذکارِ مسنونہ جن کی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہیں مثلاً سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم وغیرہ بھی پڑھ سکتے ہیں، بلکہ ان کا پڑھنا زیادہ بہتر ہے، اسی پر سلف صالحین اور اکابر علماء دیوبند رحمھم اللہ کا عمل رہا ہے۔ ذیل میں ہم چند اکابر علماء دیوبند کا معمول ذکر کرتے ہیں۔

حضرت اقدس مفتی رشید احمد صاحب گنگوہی رحمہ اللہ کا معمول اس کے بجائے (سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر) پڑھنے کا تھا۔

حضرت مفتی عزیز الرحمن صاحب رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں : احقر کہتا ہے کہ کلمہ(سبحان اللہ) الخ کی بہت فضیلت احادیثِ صحیحہ میں وارد ہے، اس لئے تکرار اس کا افضل ہے، اور یہی معمول ومختار تھا حضرت محدث وفقیہ گنگوہی ؒ کا۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند، 246/4،سوال نمبر :1761)

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا کہ : آپ ترویحہ میں کیا پڑھتے ہیں؟ فرمایا : شرعاً کوئی ذکر متعین تو ہےنہیں، باقی میں پچیس مرتبہ درود شریف پڑھ لیتا ہوں۔ (تحفۂ رمضان، صفحہ نمبر۱۱۱)

فی زمانہ اس تسبیح کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے جنہیں یاد نہ ہو وہ دیگر آسان اذکار کے بجائے یہی تسبیح دیکھ کر پڑھتا ہے، مساجد میں اس تسبیح کے پمفلٹ اور بڑے بڑے پوسٹرس چسپاں کیے جاتے ہیں، مسجدوں میں اس کے پوسٹرس لگانے کا کیا مطلب ہے؟ کیا اسے ضروری نہیں سمجھا جارہا ہے؟ یعنی جسے یاد نہ ہوتو وہ بھی اسے پڑھنا ضروری سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کے چھوٹے بڑے پوسٹرس بلکہ مستقل فریم مساجد میں آویزاں کیے جاتے ہیں۔ جبکہ اس سے ہزاروں بلکہ لاکھوں گنا زیادہ اہمیت اور فضیلت ان اذکار اور دعاؤں کی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرض نمازوں کے بعد کیا کرتے تھے۔ کیا ان کا اہتمام اسی طرح ہوتا ہے کہ ہر مسجد میں قبلہ کی طرف اس کے بڑے بڑے پوسٹرس لگے ہوتے ہیں؟ جو اذکار خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زبان مبارک اور عمل سے ثابت ہیں، ان کے اہتمام میں تو ہمیں کوئی دلچسپی نہیں ہے، بلکہ ہم میں سے بہت سے افراد کو اس کا علم بھی نہیں ہے کہ فرض نماز کے بعد کون کون سی دعائیں اور اذکار نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کیا کرتے تھے، لیکن جو عمل آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں، اس کا اہتمام اس درجہ کیوں کیا جارہا ہے کہ لوگ اس کے پوسٹرس مسجد کی دیوار پر لگانے کے لیے ذمہ داران، ائمہ اور مؤذنین سے بحث پر آمادہ ہوجاتے ہیں، اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس تسبیح کے پڑھے بغیر ان کی تراویح ادھوری رہ جائے گی۔

اسی طرح مسجد میں قبلہ کی طرف کی دیواروں پر اس طرح کے پوسٹرس لگانے میں اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ نماز کی حالت میں اگر کسی کی نظر اس پر پڑجائے اور وہ اسے زبان سے پڑھ لے تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی، اسے دوبارہ نماز ادا کرنا پڑے گا، اور اگر کوئی اس تحریر کو دیکھ لینے کے بعد اس کے الفاظ اور مفہوم کو سمجھ لے تو اس کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوگی۔ تاہم قصداً ایسا کرنا مکروہ ہے۔

لہٰذا انتہائی سنجیدگی اور عاجزی کے ساتھ ہماری مساجد کے ائمہ، ذمہ داران سے درخواست ہے کہ وہ اس تسبیح کے پوسٹرس بالکل اپنی مسجدوں میں نہ لگائیں کہ یہ دین میں زیادتی کی ایک شکل پیدا ہورہی ہے۔ اسی طرح ان پوسٹرس کو تقسیم کرنے والے حضرات بھی اب اس کی زحمت نہ فرمائیں، بلکہ اور بھی دین کے کام ہیں اس پر اپنا حلال مال خرچ کریں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین

جمعرات، 16 مارچ، 2023

سجدہ کی حالت میں پیروں کی ایڑیوں کو ملانا

سوال :

محترم مفتی صاحب سجدے میں دونوں پیروں کی ایڑیوں کو ملانا اولیٰ ہے؟ یا قیام میں جیسے تھے ویسے رکھنا اولیٰ ہے؟ مسنون کیا ہے؟ اور ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے سوشل میڈیا پر جس میں ملانے کے بارے میں حدیث ہے ایسا بتایا جارہا ہے۔ رہنمائی فرمائیں۔
(المستفتی : ابوسفیان، مالیگاؤں)
---------------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : سجدہ میں دونوں پاؤں کی ایڑیوں کے درمیان فاصلہ رکھنا یا دونوں ایڑیوں کو ملانا دونوں طریقے حدیث سے ثابت ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :

"فوجدتُه ساجدًا راصًّا بین عقبیه."

میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو  سجدے میں پایا، آپ  ﷺ کی دونوں ایڑیاں ملی ہوئی تھیں۔ (صحیح ابن حبان، باب صفۃ الصلوۃ، رقم الحدیث:1917)

دوسری حدیث حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں ہے :

"کان صلی اللہ علیه و سلّم إذا رکع بسط ظھرہ و إذا سجد وجّه أصابعه قِبَل القبلة فتفاجّ یعني وسّع بین رجلیه."

اس حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں فاصلہ رکھتے تھے۔

تاہم فقہاء کی تصریحات کے مطابق پیروں کے درمیان فاصلہ رکھنے کا قول زیادہ مضبوط معلوم ہوتا ہے اور یہی عمل اَفضل ہے۔ اور اس کی تائید حدیثِ براء کے علاوہ اس سے بھی ہوتی ہے کہ مردوں کو بحالتِ سجدہ تجافي  یعنی اَعضاء کے کشادہ رکھنے اور ایک دوسرے سے علیحدہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور فقہاء اس کو مسنون قرار دیتے ہیں۔ 

باقی رہی یہ بات کہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنھا میں "فوجدتُه ساجدًا راصًّا بین عقبیه" کے الفاظ ایڑیوں کے ملانے پر صراحتاً دلالت کرتے ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیثِ عائشہ میں ایک جزوی واقعے کا ذکر ہے، اور حدیثِ براء میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عام معمول کا ذکر ہے، یا ایڑیوں کو ملانے کا مطلب محاذات اور برابر رکھنا ہے، الصاقِ حقیقی  (دونوں کا ملانا) مراد نہیں ہے۔ یا الفاظ کی یہ زیادتی شاذ ہے، جو قابلِ استدلال نہیں ہے؛ کیوں کہ یہ حدیث مختلف طُرق کے  ساتھ مختلف کتب میں مذکور ہے؛ لیکن یہ الفاظ "فوجدتُه ساجدًا راصًّا بین عقبیه" صرف یحییٰ بن ایوب نقل کرتے ہیں جو کہ صحیح ابن حبان،شرح معانی الآثار،البیہقی  میں منقول ہے، اور دوسرے ثقات (صحیح مسلم، ابوداود، مسنداحمد، نسائی میں موجود راوی) اس کی مخالفت کرتے ہیں؛ لہٰذا یہ زیادتی شاذ ہے۔

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے :
بعض فقہاء کے کلام سے اور توارث وتعامل سے معلوم ہوتا ہے کہ تفریج ہی سنت ہونا چاہیے، کما في السعایة: و رأیت کلامًا للشیخ... الخ ان حالات کو دیکھ کر فقہاءِ متأخرین کی عبارت یا موٴول ہوگی یا مرجوح، طوالع الانوار شرح درمختار میں شیخ محمد عابد نے اس کی تاویل کرتے ہوئے الصاقِ کعبین سے محاذاتِ کعبین مراد لی ہے اور اس میں علامہ رحمتی کے قول سے استیناس بھی کرلیا ہے․․․ اور جن فقہاء نے اس کی تاویل کا ارادہ نہیں کیا ہے، وہ اس کو قولِ مرجوح اور زاہدی کے اَوہام میں درج کرتے ہیں ...“ الخ۔ (فتاویٰ دارالعلوم : ٢/١٤٤)

دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے :
مذکورہ دونوں طریقے حدیث سے ثابت ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک واقعہ مروی ہے جس میں ہے : فوجدتُہ ساجدًا راصًا بین عقبیہ۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے میں پایا آپ کی دونوں ایڑیاں ملی ہوئی تھیں، دوسری حدیث حضرت براء سے مروی ہے، جس میں ہے کان صلی اللہ علیہ وسلم إذا رکع بسط ظھرہ وإذا سجد وجّہ أصابعہ قِبَل القبلة فتفاجّ یعني وسّع بین رجلیہ (وکلا الحدیثین صحیح أو حسن: إعلاء السنن) اس حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں فاصلہ رکھتے تھے۔ شامی میں ٹخنوں کے ملانے کا جو قول منقول ہے، خود علامہ شامی نے اس کی تضعیف کی ہے۔ نیز صاحب سعایہ نے اس مسئلے میں سیر حاصل بحث کی ہے اور الصاقِ کعبین کے سنت ہونے کا انکار کیا ہے والقول الفیصل، أن یقال إن کان المراد بإلصاق الکعبین أن یلزق المصلي أحد کعبیہ بالآخر․․․ فلیس ھو من السنن علی الأصحّ اس قول کی تائید حدیث براء کے علاوہ اس سے بھی ہوتی ہے کہ مردوں کو بحالت سجدہ تجافی یعنی اعضاء کے اظہار اور ایک دوسرے سے علاحدہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور فقہاء اس کو مسنون قرار دیتے ہیں۔ پیروں کے درمیان فاصلہ رکھنے کا قول اس سنت کے عین مطابق ہے۔ نیز حدیث عائشہ میں ایک جزوی واقعہ کا ذکر ہے اور حدیث براء حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عام معمول کا ذکر ہے، بنابریں پیروں کے درمیان فاصلہ رکھنے کا قول زیادہ مضبوط معلوم ہوتا ہے۔ (رقم الفتوی : 5680)

امداد الفتاوی میں ہے :
حضرت اقدس تھانوی رحمہ اللہ نے بھی ایک سوال کے جواب میں سعایہ کی تحقیق کو راجح قرار دیا ہے، سائل نے سوال میں زاہدی کے متعلق النافع الکبیراور الفوائد البهیة کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ”وہ فقہ میں عظیم المرتبت امام تھے؛ لیکن نقلِ روایات میں متساہل تھے، نیز وہ عقیدةً معتزلی تھے اور علامہ شامی رحمہ اللہ نے "تنقیح الفتاویٰ الحامدیة"  میں لکھا ہے کہ زاہدی کی ”الحاوی“ روایاتِ ضعیفہ نقل کرنے میں مشہور ہے، جس کی وجہ سے ابنِ وہبان وغیرہ فرماتے ہیں کہ زاہدی کا جو قول دیگر فقہاء کے خلاف ہو اس کا اعتبار نہیں ...“ الخ۔ (امداد الفتاویٰ : ١/٥٣٥ : مکتبہ نعمانیہ)

امدادالاحکام میں ہے :
امام طحاوی رحمہ اللہ نے رکوع وسجود کے درمیان فاصلے کی سنیت کی تصریح فرمائی ہے۔ (امداد الاحکام۲/۹۱-۹۲زکریا بک ڈپو دیوبند)

فتاوی رشیدیہ میں ہے :
الصاقِ کعبین رکوع و سجود میں جیسا درمختار میں ہے، کسی کتاب حدیث سے اس کا نشان معلوم نہیں ہوتا اور  چوں کہ اس کی سنیت حیزِ خفا میں ہے؛ لہٰذا متروک ہے۔ بعض پہلے علماء کو بھی اس میں تکرار ہوا ہے، بخاری کا الصاقِ کعاب باہم مقتدیوں کا مراد ہے اور اس سے محاذات مقصود ہے اور اتصال و تراص صفوف، اور  یہاں وہ بظاہر مراد نہیں۔ (ملفوظات، ص:351،ط:ادارہ صدائے دیوبند)

خلاصہ یہ کہ سجدہ کی حالت میں دونوں ایڑیوں کے درمیان فاصلہ رکھنا سنت ہے۔ سوال نامہ میں جس حدیث شریف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی وضاحت اوپر کردی گئی ہے کہ اس روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا مستقل عمل نہیں تھا یا پھر ایڑیاں ملانے والی بات راوی کا اپنا اضافہ ہے، لہٰذا سجدہ کی حالت میں ایڑیوں کے درمیان فاصلہ رکھنا چاہیے۔

و منہا الصاق الکعبین وذکرہ جمع من المأخرین وجمہور الفقہاء لم یذکروہ ولا أثر لہ فی الکتب المعتبرة کالہدایة وشروحہا: النہایة والعنایة والبنایة والکفایة وفتح القدیر وغیرہا والکنز وشرحہ للعینی وشرح النقایة لا لیاس زادہ والبرجندی والشمنی وفتاوی قاضی خان والبزازیة وغیرہا․․․․ وقال خیر المتاخرین شیخ مشائخنا محمد عابد السندی المدنی فی طوالع الأنوار شرح الدرالمختار قولہ والصاق کعبیہ أی حالة الرکوع قال الشیخ الرحمتی مع بقاء تفریج ما بین القدمین قلت لعلہ أراد من الالصاق المحاذاة وذلک یحاذی کل من کعبیہ الاٰخر فلا یتقدم أحدہما علی الاٰخر․․․ قلت لقد دارت ہذہ المسألة فی سنة اربع وثمانین بعد الألف المئتین بین علماء عصرنا فأجاب أکثرہم بأن الصاق الکعبین فی الرکوع والسجود لیس بمسنون ولا أثر لہ فی الکتب المعتبرة والقول الفیصل أن یقال ان کان المراد بالصاق الکعبین أن یلزق المصلی أحد کعبیہ بالآخر ولا یفرج بینہما کما ہو ظاہر عبارة الدرالمختار والنہر وغیرہما وسبق الیہ فہم المفتی ابی السعود أیضا فلیس ہو من السنن علی الأصح کیف وقد ذکر المحققون من الفقہاء أن الاولٰی للمصلی أن یجعل بین قدمیہ نحو أربعة أصابع ولم یذکروا أنہ یلزقہما فی حالة الرکوع والسجود وقال العینی فی البنایة نقلاً عن الواقعات ینبغی أن یکون بین قدمی المصلی قدر أربع أصابع الید لأنہ أقرب الی الخشوع والمراد من قولہ علیہ الصلوة والسلام الصقوا الکعاب بالکعاب اجماعہما انتہیٰ․ فہٰذا صریح فی أن المسنون ہو التفریج مطلقاً والا لقیدہ بحالة القیام وأن المراد بالصاق الکعب بالکعب الوارد فی الخبر غیر الزاقہما ویوٴیدہ ما أخرجہ أبوداود وصححہ ابن خزیمة وذکرہ البخاری تعلیقا عن النعمان بن بشیر قال رأیت الرجل منا یلزق کعبہ بکعب صاحبہ وفی رد المحتار نقلا عن فتاویٰ سمرقند ینبغی أن یکون بین القدمین مقدار أربع أصابع وما روی أنہم الصقو الکعاب بالکعاب أرید بہ الجماعة انتہی وان کان المراد بہ محاذاة احدی الکعبین بالاٰخر کما أبدع العلامة السندی فہو أمر حق ولا بعد فی حمل الالصاق علی المحاذاة فانہ جاء استعمالہ فی القرب ویوٴید عدم سنیة الزاق الکعبین والمعنی الأول أی ترک التفریج بینہما أنہ یلزم فیہ تحریک احدی الکعبین الی الأخری وتحریک عضو فی الصلوة من غیر ضرورة لیس بجائز عندہم۔ (السعایہ فی کشف ما فی شرح الوقایہ : ٢ /١٨٠ - ١٨١)
مستفاد : فتوی جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن، رقم الفتوی : 144111200264)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
23 شعبان المعظم 1444