ہفتہ، 8 جون، 2019

صلوٰۃ التسبیح دو دو رکعت کرکے پڑھنا

*صلوٰۃ التسبیح دو دو رکعت کرکے پڑھنا*

سوال :

کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں صلوٰۃ التسبیح چار رکعت ایک سلام سے پڑھنا افضل ہے یا دو سلام سے دو دو رکعت پڑھنا افضل ہے؟ اصل میں مالیگاؤں میں عورتوں کے جو اجتماعات ہوتے ہیں اس میں کسی آپا نے بتایا کہ دو سلام سے بھی پڑھ سکتے ہیں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
(المستفتی : ظل الرحمن، مالیگاؤں)
----------------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق : صلوٰۃ التسبیح ایک نفل نماز ہے، جس کی حدیث شریف میں بڑی فضیلت آئی ہے، اس نماز کی ادائیگی کا بہتر اور افضل طریقہ یہی ہے کہ چار رکعت ایک سلام سے ادا کی جائے، لیکن دو سلاموں کے ساتھ یعنی دو دو رکعت ادا کرنا بھی جائز اور درست ہے، البتہ دو دو رکعت کرکے ادا کرنے کی صورت میں بھی تسبیح کی مقررہ مقدار ۳۰۰؍ پوری کی جائے گی۔

درج بالا تفصیلات سے معلوم ہوگیا کہ سوال نامہ میں مذکور آپا کی بات درست ہے۔

وہي أربع بتسلیمۃ أو بتسلیمتین۔ (شامي ۲؍۴۷۱)

وقیل: یصلي في النہار بتسلیمۃ، وفي اللیل بتسلیمتین، وقیل: الأولیٰ أن یصلي مرۃ بتسلیمۃ وأخریٰ بتسلیمتین۔ (بذل المجہود،۵؍۵۲۹)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
04 شوال المکرم 1440

12 تبصرے:

  1. ماشاء اللہ مفتی صاحب اللہ آپ کے جزبے کو قبول فرمائے آمین ثم آمین

    جواب دیںحذف کریں
  2. تین سو تسبیحات کے پوری کرنے سے مراد پہلی دو رکعتوں میں ۱۵۰ اور دوسری دو رکعتوں میں ۱۵۰ ہے کیا؟

    جواب دیںحذف کریں
  3. صلاۃ تسبیح کا طریقہ بھی ایک مرتبہ بتا دیں

    جواب دیںحذف کریں
  4. السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ نمازی کے سامنے سے گزرنے کی تفصیل مطلوب ھے مصلی کے سامنے سے کتنی صفوں کے آگے سے گزر سکتے ھیں اسی طرح اکثر مساجد میں دیکھا گیا ہے کہ مسبوق کے سامنے جو پڑھ رھا ھوتا ھے اگر وہ چلا جاے تو بازوں میں بیٹھا ہوا شخص اس مسبوق کے اپنا ہاتھ کھڑا کردیتا ھے پھر لوگ ساتھ کو سترہ مان اس مسبوق کے سامنے سے گزرنا شروع کردیتے ھیں کیا اسکی گنجائش ھے کیا ؟ اس طرح نمازی کے سامنے سے گزرنا جایز ھے کیا فقط قاری سید ابرار الحق حقی احمد نگری

    جواب دیںحذف کریں
  5. کیا عورتوں کا ایک جگہ جمع ہوکر تراویح کی نماز جماعت کہ ساتھ وہ بھی کسی مرد یا بچے کہ پیچھے پڑھنا جائز ہے❓

    جواب دیںحذف کریں