جمعرات، 31 جنوری، 2019

ایک مثل پر نمازِ عصر پڑھنے کا حکم

*ایک مثل پر نمازِ عصر پڑھنے کا حکم*

سوال :

مفتی صاحب بہت سارے احباب عصر کی نماز پہلے وقت میں غیر مقلدوں کے پیچھے پڑھ لیتے ہیں حالانکہ تقویم کے حساب سے احناف کا عصر کا وقت شروع نہیں ہوتا تو اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
اسی طرح بعض مرتبہ جماعتوں میں کسی ایسی مسجد میں جہاں عصر کی نماز شافعی مسلک کے حساب سے ہوتی ہے اور احناف کا عصر کا وقت شروع نہیں ہوتا تو ایسے وقت میں نماز انہیں کیساتھ شافعی کے حساب سے پڑھنے پر کیا حکم ہے؟ آیا نماز ہوجائیگی یا احناف کے نزدیک وقت ہونے پر دوہرانا ہوگی؟
( المستفتی : عبدالرحمن بھائی، مالیگاؤں)
-----------------------------
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وباللہ التوفيق :  مثلِ  اول کے ختم پر نمازِ عصر ادا کرنے کے بارے میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے دو قول ہیں : ایک قول وہی ہے جس پر برصغیر میں عمل ہوتا ہے، یعنی دو مثل  کے بعد عصر کے وقت کا شروع ہونا اور یہی برصغیر میں مشہور اور معمول بہ ہے۔ اور امام صاحب کا دوسرا قول ائمۂ ثلاثہ اور جمہور کے قول کے مطابق ہے، یعنی ایک  مثل  کے بعد عصر  کے وقت کا شروع ہوجانا اور یہی امام ابویوسف، امام محمد، امام زفر، امام طحاوی رحمہم اللہ کا قول بھی ہے۔

لہٰذا اگرکبھی ضرورت کے وقت مثلاً سفر وغیرہ کی وجہ سے عصر کی نماز کے قضا ہونے کا اندیشہ ہو یا جماعت ملنے کی امید نہ ہوتو ایک مثل پر عصر کی نماز ادا کی جاسکتی ہے۔

البتہ غیرمقلدین کے بعض عقائد فاسدہ کی وجہ سے ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، لہٰذا بلاضرورتِ شدیدہ مثلاً قریب میں اپنے ہم خیال لوگوں کی مسجد ہوتو ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے اجتناب کیا جائے۔ تاہم بہرصورت نماز ہوجائے گی، اعادہ کی ضرورت نہیں۔

ووقت الظہر من زوالہ، أي میل ذکاء عن کبد السماء إلی بلوغ الظل  مثلیہ، وعنہ مثلہ، وہو قولہما، وزفر والأئمۃ الثلاثۃ، قال الإمام الطحاوي: وبہ نأخذ، وفي غرر الأذکار: وہو المأخوذ بہ، وفي البرہان: وہو الأظہر، لبیان جبرئیل، وہو نص في الباب، وفي الفیض: وعلیہ عمل الناس الیوم، وبہ یفتي (الدر المختار مع الرد المحتار، کتاب الصلوۃ، مطلب في تعبدہ علیہ الصلاۃ والسلام، کراچی ۱/ ۳۵۹، زکریا ۲/ ۱۵) 

عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أمني جبرئیل علیہ السلام عند البیت مرتین، فصلی بي الظہر حین زالت الشمس، وکانت قدر الشراک، وصلی بي العصرحین کان ظلہ مثلہ … فلما کان الغد صلی بي الظہر حین کان ظلہ مثلہ، وصلی بي العصرحین کان ظلہ مثلیہ۔(أبوداؤد، کتاب الصلوۃ، باب في المواقیت، طبع ہندي ۱/ ۵۶، دارالسلام، رقم: ۳۹۳، سنن الترمذي، کتاب الصلوۃ، باب ماجاء في مواقیت الصلاۃ، طبع ہندي ۱/ ۳۸، دارالسلام، رقم: ۱۴۹)
مستفاد : فتاوی رشیدیہ قدیم ۲۹۶-۲۹۹، جدید زکریا ۷۲۸-۲۸۱، امداد الفتاوی زکریا ۱/ ۱۵۳/فتاوی قاسمیہ)فقط
واللہ تعالٰی اعلم
محمد عامر عثمانی ملی
24 جمادی الاول 1440

2 تبصرے:

  1. دوبارہ ٹرائی کرلیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. اگر 4 رکعت والی نماز میں امام مسجد آخری قاعدا میں نہیں بیھٹا ۔اعر 6 رکعت نماز پورا کیا۔تو کیا حکم

    جواب دیںحذف کریں