تیرے جنازہ میں نہیں آؤں گا اور میرے جنازہ میں تو مت آنا
سوال : محترم مفتی صاحب! بہت سارے خاندانی جھگڑے میں اکثر اس طرح کے جملے لوگ اپنے بھائی کے لیے، رشتے دار کے لیے یا کسی کاروباری رقابت کے پیش نظر، ایکدوسرے کے لیے یہ الفاظ "تیرے جنازہ میں نہیں آؤں گا اور میرے جنازہ میں تو مت آنا" استعمال کر دیتے ہیں. کیا یہ مناسب ہے؟ اور اگر کسی نے وصیت کے ذریعے یا مرتے وقت یہ کہہ دیا کہ میری میت میں فلاں کو مت بلانا، تو کیا رشتہ داروں کے لیے مرحوم کی اس وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے؟ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ جب وہ انتقال کرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو اور یہ بڑے اجر وثواب کا کام ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جنازہ کے ساتھ چلا اور اس پر نماز پڑھی تو اس کو ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص میت کی تدفین تک جنازہ کے ساتھ رہا تو اس کو دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا۔ اور یہ قیراط ایسے ہیں کہ ان میں سے چھوٹا قیراط بھی احد پہاڑ جیسا ہے۔ لہٰذا کسی اخ...