حرمین شریفین کے مٹی پتھر لانا
سوال : مفتی صاحب! کیا حرمین شریفین کے مٹی یا پتھر اپنے ساتھ لا سکتے ہیں؟ اگر کوئی لے آئے تو کیا یہ مٹی پتھر اسے بد دعا دیتے ہیں؟ جس کی وجہ سے لانے والے کے معاشی اور جسمانی حالات خراب ہوجاتے ہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : محمد عبداللہ، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : حرمین شریفین یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مٹی پتھر لانا فی نفسہ جائز ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ہے : تھوڑی موڑی مٹی تبرک کے طور پر مدینہ منورہ سے لانے میں کوئی حرج نہیں ہے، لوگوں کا اس پر اعتراض کرنا، یا اس کو حرام کہنا صحیح نہیں۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/ ۳۶۶) جواب درست ہے، البتہ اس سے کوئی غلط عقیدہ متعلق نہ ہونا چاہیے۔ (رقم الفتوی : 158561) جامعہ بنوری ٹاؤن کا فتوی ہے : "جنت البقیع" اگرچہ بہت مبارک قبرستان ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے اس کی فضیلت بیان فرمائی ہے، لیکن چوں کہ یہ وقف قبرستان ہے، اس لیے یہاں سے انتظامیہ کی اجازت کے باوجود بھی مٹی اٹھاکر لانا جائز نہیں ہے، البتہ مدینہ منورہ یا مکہ مکرمہ کی مٹی کو تبرک کی ...