بھاتی دینے کے گلی محلے والوں سے رقم جمع کرنا
سوال : محترم مفتی صاحب! ہمارے شہر میں کسی میت کی تعزیت کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ میت کی پہلی بھاتی گلی محلے والوں کی طرف سے رہے گی، اسکے بعد دوسرے تیسرے وقت کی بھاتی کے لیے جو لوگ نام لکھانا چاہتے ہیں وہ ایک طرف آ جائیں بقیہ کو جانے کی اجازت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ پہلی بھاتی گلی محلے والے دیں؟ کیا ایسا کوئی شرعی حکم ہے؟ ابھی حال ہی میں ایک جگہ بیٹھے تھے، کچھ تعلق کے محنتی مزدور بھی تھے، انہوں نے بتایا کہ گلی میں میت ہوئی، تدفین وغیرہ کے بعد محلے کا ایک اگاؤں شخص آیا اور کہا کہ لا 500 دے، بھاتی میں جمع کروانا ہے. جبکہ مرحوم کا خاندان انتہائی وسیع، اگر خاندان والے چاہیں تو کسی کی بھی بھاتی نا لیں۔ (اور اب الحمدللہ ایسا ہو رہا ہے شہر میں) کیا یہ مناسب ہے کہ کسی غریب/متوسط شخص سے زور زبردستی سے بھاتی کے پیسے وصولے جائیں، جس کے خود حالات خراب ہوں؟ اگر گلی محلے کی پہلی بھاتی میں گلی محلے والے خوشی سے شامل ہوں تو ٹھیک ہے ورنہ زبردستی کسی پر مسلط ہونا کیسا ہے؟ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وبال...