اشاعتیں

کیا معذوروں کی وجہ سے ان کے گھر والے مالدار ہوتے ہیں؟

سوال : محترم مفتی صاحب! کیا لوگوں کا یہ سوچنا/کہنا صحیح ہے کہ جس گھر میں پیدائشی طور پر پاگل، عیبی یا پیدائشی مفلوج ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں بے پناہ دولت سے نوازتا ہے؟ شرعی طور ایسا کچھ سننے پڑھنے میں آتا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : ہم نے یہ بات کئی لوگوں سے سنی ہے اور مشاہدہ بھی ہے کہ بہت سے ایسے گھرانے مالدار ہوتے ہیں جن میں دماغی معذور یا پیدائشی مفلوج افراد ہوتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اس طرح کی بات کہتے ہیں وہ عموماً لاعلم افراد ہوتے ہیں، انہیں احادیث وغیرہ کا کوئی علم نہیں ہوتا وہ بس سنی سنائی باتوں کو کہتے رہتے ہیں، جبکہ احادیث میں یہ بات آئی ہے کہ معذوروں، کمزوروں اور مسکینوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے گھر والوں اور ان کا خیال رکھنے والوں کو رزق دیتے ہیں اور ان کو نوازتے ہیں۔ بخاری شریف میں ہے : مصعب بن سعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سعد بن ابی وقاص کے دل میں خیال آیا کہ ان کو ان کے ماتحت لوگوں پر (کسب معاش میں ان سے زیادہ کوشش کرنے کی وجہ سے) فضیلت حاصل ہے، تو آپ ص...

مردوں کا بالوں میں کلپ یا بینڈ لگانا

سوال : حضرت مفتی صاحب! اسپرنگ نما کالی تار (جسے بعض لوگ بال سنبھالنے کے لیے استعمال کرتے ہیں)، کیا مرد اس کا استعمال کر سکتا ہے؟ خصوصاً اگر کوئی حافظ اسے ٹوپی کے اندر اس نیت سے پہنے کہ بال اپنی جگہ پر رہیں اور باہر سے یہ نظر بھی نہ آئے، تو کیا اس کا استعمال جائز ہے؟ یہ چیز عموماً عورتیں بال سنبھالنے کے لیے استعمال کرتی ہیں، اسی وجہ سے اس کے استعمال کے متعلق شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : حافظ انس، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : مردوں کا مسنون بال رکھنے کے لیے کلپ یا بینڈ وغیرہ استعمال کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ غیر مسنون، فاسقوں اور فاجروں کی طرح بڑے بال رکھنے والوں کے لیے ہی اس طرح کی خرافات کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا ایسے بڑے بال رکھنا اور اس کو سنبھالنے کے لیے کلپ اور بینڈ لگانا عورتوں کی مشابہت کی وجہ سے ناجائز اور گناہ ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی ان مردوں پر لعنت کرے جو عورتوں سے...

فارماسسٹ کے لیے پانچ لاکھ کی بیمہ پالیسی؟

سوال :  فارماسسٹ سرکشا کوچ یوجنا مہاراشٹر میں تمام رجسٹرڈ فارماسسٹ کے لیے لاگو کیا گیا ہے۔ یہ اسکیم مہاراشٹر کے تمام رجسٹرڈ فارماسسٹ کے لیے مفت میں ہے۔ اس اسکیم کے تحت 5 لاکھ روپے کا حادثاتی بیمہ۔ فارماسسٹ کی حادثاتی موت پر اس کے ورثاء (Nominee) کو ملے گا۔  مفتی صاحب اِس اسکیم میں کوئی پیسہ نہیں بھرنا ہوگا صرف آن لائن فارم بھرنے کا پیسہ لگے گا اُس کے علاوہ کوئی چارج نہیں ہے۔ تو یہ اسکیم لینا شرعاً کیسا ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : محمد عاصم، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی یہی بات ہے کہ اس اسکیم کو حاصل کرنے کے لیے کوئی رقم نہیں بھرنا ہے تو چونکہ اسکیم میں حصہ لینے والے کا کوئی پیسہ داؤں پر نہیں لگا ہے، جس کی وجہ سے اس میں جوئے یا سود کا کوئی معاملہ نہیں بنے گا، بلکہ اسے حکومت کی جانب سے امداد اور احسان کہا جائے گا، لہٰذا یہ اسکیم لینا شرعاً جائز ہے۔ قَالَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي أَخْذِ الْجَائِزَةِ مِنْ السُّلْطَانِ قَالَ...

تیرے جنازہ میں نہیں آؤں گا اور میرے جنازہ میں تو مت آنا

سوال : محترم مفتی صاحب! بہت سارے خاندانی جھگڑے میں اکثر اس طرح کے جملے لوگ اپنے بھائی کے لیے، رشتے دار کے لیے یا کسی کاروباری رقابت کے پیش نظر، ایکدوسرے کے لیے یہ الفاظ "تیرے جنازہ میں نہیں آؤں گا اور میرے جنازہ میں تو مت آنا" استعمال کر دیتے ہیں. کیا یہ مناسب ہے؟ اور اگر کسی نے وصیت کے ذریعے یا مرتے وقت یہ کہہ دیا کہ میری میت میں فلاں کو مت بلانا، تو کیا رشتہ داروں کے لیے مرحوم کی اس وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے؟ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ جب وہ انتقال کرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو اور یہ بڑے اجر وثواب کا کام ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص جنازہ کے ساتھ چلا اور اس پر نماز پڑھی تو اس کو ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص میت کی تدفین تک جنازہ کے ساتھ رہا تو اس کو دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا۔ اور یہ قیراط ایسے ہیں کہ ان میں سے چھوٹا قیراط بھی احد پہاڑ جیسا ہے۔ لہٰذا کسی اخ...

اسٹیکر کے ذریعے سلام بھیجنا

سوال : مفتی صاحب! آج کل واٹس ایپ پر اس طرح اسٹیکر کے ذریعے سلام کرنے کا رواج بہت بڑھ گیا ہے۔ عام طور پر جب آدمی سلام لکھتا ہے تو اکثر زبان سے بھی ادا کر لیتا ہے، لیکن اسٹیکر بھیجنے میں غالب گمان یہی ہوتا ہے کہ صرف اسٹیکر سینڈ کر دیا جاتا ہے، زبان سے سلام ادا نہیں کیا جاتا۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر اسٹیکر کے ذریعے سلام بھیجتے وقت زبان سے سلام ادا نہ کیا جائے، تو کیا عام طریقے سے سلام لکھنے اور اسٹیکر کے ذریعے سلام بھیجنے میں ثواب و نیکی کے اعتبار سے کوئی فرق ہوگا؟ (المستفتی : عبدالمطلب، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : واٹس اپ وغیرہ پر ریڈی میڈ اسٹیکر کا استعمال بہت عام ہوچکا ہے۔ سلام یا جواب سلام کے لیے اس کا ایک دوسرے کو ارسال کرنا درست ہے، لیکن سلام کا صرف اسٹیکر ارسال کردیا جائے اور زبان سے تلفظ ادا نہ کیا جائے تو سلام کرنے کا ثواب نہیں ملے گا اور نہ ہی جواب دینے کا واجب ادا ہوگا، اس لیے کہ سلام میں اصل زبان سے ادائیگی ہے یا خود لکھنا ہے، اگر یہ نہیں پایا گیا تو ریڈی میڈ اسٹیکر کا کوئی مطلب نہیں رہا۔ نعم إذا...

بالوں سے متعلق شرعی حکم

سوال : مفتی صاحب ! بال رکھنے کا سنت طریقہ کیا ہے؟ کیسے بال رکھنا منع ہے؟ مکمل مفصل جواب عنایت فرمائیں۔ (المستفتی : محمد عبداللہ، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : بال رکھنے کے تین طریقے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہیں، یعنی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے موئے مبارک کبھی نصف کان تک کبھی کان کی لَو تک ہوتے اور جب بڑھ جاتے تو شانۂ مبارک سے چُھو جاتے، اس لئے پورے سرپر بال رکھے جائیں یا سب کے سب منڈا دیئے جائیں جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا معمول تھا۔ یا مساوی طور پر کٹوائے جائیں، کچھ حصہ منڈانا اور کچھ حصہ میں بال رکھنا، یا چھوٹے بڑے اتار چڑھاؤ بال رکھنا جو آج کل فیشن ہے اور انگریزی بال سے موسوم ہے، جس سے عیسائیوں اور فاسقوں، فاجروں کی ہئیت کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے، اور احادیث میں بھی ایسے بال رکھنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے وہ احادیث درج ذیل ہیں۔ حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی ﷺ کو قزع سے منع کرتے ہوئے سنا۔ نافع رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ ق...

وضو میں کان اور گردن کے مسح کی حیثیت

سوال : مفتی صاحب! آپ سے گذارش ہے کہ وضو میں کان اور گردن کے مسح کے تعلق سے قرآن حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں کہ گردن اور کان کا مسح کی کیا حیثیت ہے؟ اللہ آپ کو بہترین جزائے خیر دے۔ آمین (المستفتی : محمد شاکر، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : وضو میں کانوں کا مسح کرنا بالاتفاق سنت ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں کان کے اندرونی حصے کا مسح شہادت کی انگلیوں سے کیا، اور ان کے مقابل اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اوپری حصے پر پھیرا، اس طرح کان کے اندرونی اور اوپری دونوں حصوں کا مسح کیا۔ (ابن ماجہ)  گردن (گردن کے پچھلا حصہ جسے گدی کہا جاتا ہے) کے مسح کے بارے میں چند روایات آئی ہیں جن میں موقوف روایات کے علاوہ مرفوع روایات بھی ہیں۔ یہ روایات اگرچہ ضعیف ہیں لیکن فضائل اعمال میں ضعیف احادیث سے استدلال جائز ہے اس پر تمام علمائے اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے۔ اور ضعیف حدیث پر عمل کرنا بہتر ہے اس سے کہ اُس عمل کا ان...