اشاعتیں

ایک دن "شاہ جامیؒ" کے دیار میں

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی      (امام وخطیب مسجد کوہِ نور)  قارئین کرام! میرے بہت سے متعلقین کو اس بات کا علم ہے کہ میں عموماً سفر سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ سال سال بھر ہوجاتے ہیں میرا ایک یا دو سفر ہی ہوتا ہے وہ بھی ایک دن یا پھر نصف یوم کا۔ چند دنوں پہلے ہمارے واٹس اپ گروپ دارالافتاء کے سرپرست حضرت مولانا مفتی مسعود اختر صاحب قاسمی نے بذریعہ واٹس اپ اطلاع دی کہ آپ کو ہمارے مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا ہے۔ چونکہ یہ خواہش مفتی صاحب کی طرف سے تھی اور مدرسہ کی تعطیلات کے ایام میں یہ جلسہ ہونا تھا، اس لیے میں نے بلا چوں وچرا دعوت قبول کرلی۔ جلسہ کی تاریخ قریب آئی تو یہ مرحلہ در پیش ہوا کہ کس طرح جامنیر پہنچنا ہے؟ چونکہ ہمیں فور وھیلر سے دقت ہوتی ہے اور قے ہونے لگتی ہے، اس لیے بذریعہ ٹو وھیلر ہی سفر کرنا طے ہوا۔ چنانچہ 10 فروری کو صبح نو بجے کے آس پاس اپنے تین رفقاء درس مولانا محمد اطہر ملی، ندوی، مولانا محمد مصطفی ملی اور مولانا محمد حامد ملی کے ساتھ مالیگاؤں سے جامنیر کے لیے روانہ ہوئے۔ چونکہ فاصلہ طویل (تقریباً پونے دو سو کلو میٹ...

حضرت موسی اور روزہ دار کی فضیلت والی روایت کی تحقیق

سوال : محترم مفتی صاحب! رمضان المبارک سے پہلے درج ذیل واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتا ہے، براہ کرم اس کی تحقیق فرما دیں۔ ایک بار موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا کہ یا اللہ جتنا میں آپ کے قریب ہوں، آپ سے بات کر سکتا ہوں اتنا کوئی اور قریب ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا : اے موسیٰ ! آخری وقت میں ایک امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہوگی اور اس امت کو ایک مہینہ ایسا ملے گا جس میں وہ خشک ہونٹوں، پیاسی زبان، سوکھی ہوئی آنکھیں، بھوکے پیٹ جب افطار کرنے بیٹھے گی تب میں اُن کے بہت قریب ہوں گا۔ موسیٰ تمہارے اور میرے درمیان ستر پر دوں کا فاصلہ ہے لیکن افطار کے وقت اُس اُمت اور میرے درمیان ایک پردے کا فاصلہ بھی نہیں ہو گا اور جو دعاوہ مانگیں گے اُسے قبول کرنا میری ذمہ داری ہو گی۔ (المستفتی : اعجاز احمد، مالیگاؤں)  ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : افطار کے وقت روزہ دار کی دعا کی قبولیت کا ثبوت حدیث شریف سے ملتا ہے، لیکن سوال نامہ میں مذکور روایت معتبر نہیں ہے، اس روایت کو عبدالرحمن بن عبدالسلام الصفوری رحمہ اللہ کی کتاب "نزهة المجالس و من...

چاندی کی بڑھتی قیمت اور مہر کی مقدار؟

✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی      (امام وخطیب مسجد کوہ نور)  قارئین کرام! بہت سے لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ چاندی کی قیمت تقریباً چار گنا تک بڑھ چکی ہے، یا اگر چاندی کی قیمت کا علم ہے تو انہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ نکاح میں مہر چاندی کی قیمت کے اعتبار سے مقرر کیا جاتا ہے۔ جو چاندی آج سے چند مہینے پہلے فی تولہ 1000 روپے کے آس پاس چل رہی تھی وہ فی الحال 3500 کے آس پاس چل رہی ہے۔  معلوم ہونا چاہیے کہ احناف کے نزدیک کم سے کم مہر دس درہم ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : عورتوں کا نکاح غیر کفوء میں نہ کرو اور ان کا نکاح سرپرستوں کے علاوہ کوئی نہ کرے اور مہر دس درہم سے کم مقرر نہیں ہوسکتا۔ (بیہقی)  دس درہم کا وزن گرام کے اعتبار سے 30 گرام 618 ملی گرام چاندی ہے، دس گرام کا ایک تولہ ہوتا ہے، اس لیے مہر مقرر کرنے سے پہلے ایک مرتبہ چاندی کی آن لائن یا آف لائن قیمت معلوم کرلیں، اور عموماً آن لائن کی بہ نسبت آف لائن کی قیمت کم ہوتی ہے۔ لہٰذا آف لائن کے اعتبار سے بھی...

قبرستان کے پاس سے گزرتے ہوئے کیا پڑھیں؟

سوال : محترم ! پوچھنا یہ تھا کہ قبرستان کے داخل ہونے کا سلام (السلام علیکم یا اھل القبور..) ہم لوگ اگر قبرستان کے بازو کے راستہ سے گذر رہے ہو تو کیا بغیر قبرستان میں داخل ہوئے پیش کر سکتے ہیں؟  2) عورتیں قبرستان کے باہر سے گذر رہی ہیں تو کیا وہ بھی قبرستان میں مدفون لوگوں کو سلام پیش کر سکتی ہیں؟  (المستفتی : شمیم سر، دھولیہ)  ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : جو دعائیں قبرستان میں داخل ہونے کے وقت پڑھی جاتی ہیں، وہی دعائیں قبرستان کے پاس سے گزرتے ہوئے بھی پڑھ سکتے ہیں، نیز خواتین بھی قبرستان کے پاس سے گزرتے ہوئے یہ دعائیں پڑھ سکتی ہیں۔ دعائیں درج ذیل ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ طیبہ کے قبرستان سے گزرے تو قبروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : السَّلَامُ عَلَيْکُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ يَغْفِرُ اللَّهُ لَنَا وَلَکُمْ أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ۔ ترجمہ : اے قبر والو تم پر سلام ہو اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے تم ہم سے پہلے پ...

آن لائن سونے چاندی کی تجارت کا حکم

سوال : مفتی صاحب ! کیا online سونا یا پھر چاندی فون پے phone pe پر digital خریدنا اور وہیں پر بیچ دینا کیا جائز ہے؟ ایک بھائی کہ رہا ہے کی digital یعنی online سونا چاندی خریدنا درست نہیں ہے۔ آپ رہنمائی فرمائیں۔ (المستفتی : محمد سلمان، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : آن لائن کسی ایپ بشمول phone pe وغیرہ کے ذریعہ جو سونا چاندی خریدا جاتا ہے، سب سے پہلی بات یہ کہ وہ خارج میں موجود ہی نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ اس کی بیع شرعاً درست نہیں ہے۔ اور اگر بالفرض اس کو موجود مان لیا جائے تو اگرچہ اس کی بیع صحیح ہو جائے گی، لیکن اس پر حسی قبضہ کے بغیر اس کو آگے بیچنا جائز نہیں ہے، اور یہاں قبضہ کے بغیر اس کو آگے بیچا جاتا ہے، لہٰذا اس طرح کی تجارت جائز نہیں ہے اور اس کا نفع بھی حلال نہیں ہے۔ مِنْ حُكْمِ الْمَبِيعِ إذَا كَانَ مَنْقُولًا أَنْ لَا يَجُوزَ بَيْعُهُ قَبْلَ الْقَبْضِ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ : ٣/١٣)فقط  واللہ تعالٰی اعلم  محمد عامر عثمانی ملی  29 رجب المرجب 1447 

ووٹر، امیدوار اور ان کے حامیوں سے اہم گزارش

✍ مفتی محمد عامر عثمانی ملی      (امام وخطیب مسجد کوہ نور) قارئین کرام ! شہر عزیز مالیگاؤں میں کارپوریشن الیکشن 2026 کی سرگرمیاں اپنے آخری مراحل میں ہیں، اس موقع پر عام رائے دہندگان، امیدوار حضرات، اور ان کے حامیوں کی خدمت میں شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اہم باتیں عرض کی جا رہی ہیں تاکہ عمل کرنے والوں کو رہنمائی مل جائے اور من مانی کرنے والوں پر حجت تمام ہوجائے۔ اسی طرح دیگر حضرات بھی اس سے واقف ہوجائیں تاکہ بوقت ضرورت اور بقدرِ استطاعت وہ بھی ان برائیوں کے سدباب کی کوشش کریں۔ محترم قارئین ! سب سے پہلی ہدایت عام رائے دہندگان کے لیے ہے کہ 15 جنوری بروز جمعرات کو ووٹنگ ہوگی جس میں آپ اپنا آئینی حق ووٹ کا استعمال ضرور کریں۔ نیز ایسے حالات میں جبکہ N. R. C اور S. I. R لاگو کرکے در پردہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، ووٹنگ کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔ کیونکہ حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہندوستانی ہونے کے لیے ایک بڑا ثبوت ہے۔ اسی طرح ووٹ کی شرعی حیثیت شہادت، سفارش اور وکالت کی ہے، جس سے بلاعذر غفلت اور کوتاہی برتنا شرعاً بھی درست نہیں ہے۔ نیز ووٹ اس امیدوار کو دی جائے ...

روایت "قبر میں دلہن کی طرح سوجا" کی تحقیق

سوال : مفتی صاحب ! کہیں بیان میں سننے میں آیا تھا کہ قبر میں جب مردہ فرشتوں کے سوالات کا درست جواب  دے دیتا ہے تو فرشتے خوش ہو کر کہتے ہیں کہ دلہن کی طرح بے خوف ہو کرکے سوجا۔ جسے اسکے محبوب کے علاوہ کوئی نہیں جگاتا۔ سوال یہ ہیکہ یہ بات قرآن پاک میں وارد ہوئی ہے یا پھر احادیث مبارکہ میں؟ مع حوالہ ارسال فرمائیں۔ (المستفتی : فیضان احمد، مالیگاؤں) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں جن الفاظ کی تحقیق طلب کی گئی ہے وہ ترمذی شریف کی ایک معتبر روایت میں موجود ہیں اور وہ روایت درج ذیل ہے : حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کسی میت یا فرمایا تم میں سے کسی ایک کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے نیلی آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں ایک کو منکر دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے وہ دونوں اس میت سے پوچھتے ہیں تو اس شخص (یعنی نبی کریم ﷺ (کے بارے میں کیا کہتا ہے وہ شخص وہی جواب دیتا ہے جو دنیا میں کہتا تھا کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد...