خون سے قرآن مجید لکھنا
سوال : محترم مفتی صاحب! سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ پڑھنے میں آ رہی ہے کہ صدام حسین نے اپنے خون سے قرآن مجید لکھوایا تھا، جس میں تقریباً 27 لیٹر خون کا استعمال کیا گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ خون چونکہ ناپاک مانا جاتا ہے، تو اس ناپاک شئے سے لکھا جانا کیسا ہے؟ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : بلاشبہ خون نجس اور ناپاک ہے، لہٰذا اس سے کچھ بھی لکھنا درست نہیں ہے، قرآن مجید تو اللہ کا کلام اور انتہائی مقدس اور متبرک ہے، لہٰذا خون سے قرآن مجید لکھنا بدرجہ اولی ناجائز اور اس کی توہین ہے جس سے بچنا انتہائی ضروری ہے۔ سوال نامہ میں مذکور شخص نے یہ کام کیا ہے یا نہیں؟ یہ بات تصدیق شدہ نہیں ہے۔ قالَ اللہُ تعالیٰ : إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۖ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍۢ وَلَا عَادٍۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ۔ (سورۃ النحل، آیت : 115)فقط واللہ تعالٰی اعلم محمد عامر عثمانی ملی 20 رمضان المبارک 1447