معلمات کے ساتھ سوتیلا سلوک کیوں؟
✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی (امام وخطیب مسجد کوہ نور) قارئین کرام! شہر عزیز مالیگاؤں میں بچے اور بچی دونوں کے لیے دینی بنیادی تعلیم کے ساتھ دینی اعلی تعلیم کا معیاری نظام الحمدللہ بہت بڑے پیمانے پر قائم ہے جو آپ کو دیگر علاقوں کو دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ ان اداروں میں اپنی بے لوث خدمات انجام دینے والے مرد حضرات کے ساتھ بڑی تعداد خواتین کی ہے جو عالمات اور حافظات ہوتی ہیں۔ یہ معلمات پابندئ وقت، بلاناغہ اور بڑی جانفشانی کے ساتھ دینی خدمات انجام دیتی ہیں، لیکن انتہائی حیرت ناک بلکہ افسوس ناک اور شرمناک بات یہ ہے کہ ان کی تنخواہیں معلمین کی بہ نسبت نصف ہوتی ہیں، جبکہ ان کی پابندی، حاضری اور کارکردگی معلمین سے کم نہیں ہوتی، ایک شفٹ میں دو گھنٹے پڑھانے والے معلمین کی ماہانہ تنخواہ فی الحال دو تین ہزار ہے تو معلمات کی تنخواہ ہزار اور پندرہ سو ہی رہتی ہے، جبکہ یہ مرد حضرات سے زیادہ قربانی دے کر مدرسہ پہنچتی ہیں، اس لیے کہ ان کے پیچھے گھریلو کام کاج اور بچوں کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے جبکہ مرد حضرات اس سے مستثنٰی ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت ساری معلمات مطلقہ یا بیوہ ہوتی ہیں جو اکیلے ...