اشاعتیں

مہنگائی کا قہر

تنخواہوں میں اضافہ انتہائی ضروری   ✍️ مفتی محمد عامر عثمانی ملی     (امام وخطیب مسجد کوہ نور) قارئین کرام! شہر عزیز مالیگاؤں مزدوروں اور محنت کشوں کا شہر ہے۔ یہاں بسنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد پاور لوم یا دوسرے کسی کام میں محنت مزدوری کرکے اپنا گزر بسر کرتی ہے۔ ان کی تنخواہیں بہت مختصر ہوتی ہیں۔ جس سے ان کی ضروریات کس طرح پوری ہوتی ہیں؟ یہی جانتے ہیں۔  فی الحال جنگ اور بارش کی کمی کا سہارا لے کر مہنگائی کا قہر برس رہا ہے۔ پیٹرول پر کچھ دن کے وقفہ سے بیس روپے بڑھ چکے ہیں۔ اشیاء ضروریہ چاول، گیہو‌ں، تیل، شکر، دالیں، دودھ اور تقریباً تمام ہی کرانہ سامان پر اچھی خاصی قیمت بڑھ چکی ہے، صرف یہی نہیں بلکہ سبزیوں کے دام میں بھی اچھا خاصہ اضافہ ہو رہا ہے۔ اور گوشت تو کئی مہینوں پہلے سے ہی اپنا تیور دکھا چکا ہے اور دو گنا داموں میں یعنی چار سو کے آس پاس ہمارے شہر میں فروخت ہورہا ہے اور غریبوں کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے۔ اب ایسے حالات میں مزدور طبقہ، ائمہ، مکاتب ومدارس کے معلمین، دوکانوں پر کام کرنے والے سیلس مین اور غیر منظور شدہ اسکولوں یا ٹیوشن کلاسوں میں پڑھانے والے ٹیچر...

بھاتی دینے کے گلی محلے والوں سے رقم جمع کرنا

سوال : محترم مفتی صاحب! ہمارے شہر میں کسی میت کی تعزیت کے بعد اعلان ہوتا ہے کہ میت کی پہلی بھاتی گلی محلے والوں کی طرف سے رہے گی، اسکے بعد دوسرے تیسرے وقت کی بھاتی کے لیے جو لوگ نام لکھانا چاہتے ہیں وہ ایک طرف آ جائیں بقیہ کو جانے کی اجازت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ضروری ہے کہ پہلی بھاتی گلی محلے والے دیں؟ کیا ایسا کوئی شرعی حکم ہے؟ ابھی حال ہی میں ایک جگہ بیٹھے تھے، کچھ تعلق کے محنتی مزدور بھی تھے، انہوں نے بتایا کہ گلی میں میت ہوئی، تدفین وغیرہ کے بعد محلے کا ایک اگاؤں شخص آیا اور کہا کہ لا 500 دے، بھاتی میں جمع کروانا ہے. جبکہ مرحوم کا خاندان انتہائی وسیع، اگر خاندان والے چاہیں تو کسی کی بھی بھاتی نا لیں۔ (اور اب الحمدللہ ایسا ہو رہا ہے شہر میں)  کیا یہ مناسب ہے کہ کسی غریب/متوسط شخص سے زور زبردستی سے بھاتی کے پیسے وصولے جائیں، جس کے خود حالات خراب ہوں؟ اگر گلی محلے کی پہلی بھاتی میں گلی محلے والے خوشی سے شامل ہوں تو ٹھیک ہے ورنہ زبردستی کسی پر مسلط ہونا کیسا ہے؟ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وبال...

روایت "اللہ بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے" کی تحقیق

سوال : محترم مفتی صاحب! یہ ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ اللہ ہم سے 70 ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ اس کا حوالہ عنایت فرمائیں۔ (المستفتی : عبدالرحمن، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں پوچھی گئی روایت "اللہ تعالیٰ ہم سے 70 ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے" کسی بھی حدیث کی کتاب میں مذکور نہیں ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا فتوی ہے : احادیث مبارکہ میں ستر ماؤں کا ذکر ہمیں نہیں ملا۔ البتہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ایک ماں کی رحمدلی سے زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ (رقم الفتوی : 603880) معلوم ہوا کہ ایسی کوئی حدیث نہیں ہے، لہٰذا اس بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب کرنا اور اس کا بیان کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اس سلسلے میں جو حدیث شریف ملتی ہے وہ درج ذیل ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ قیدی آئے، قیدیوں میں ایک خاتون موجود تھی، جس کا پستان دودھ سے بھرا ہوا تھا، اور وہ دوڑ رہی تھی، اتنے میں ایک بچہ اس کو قیدیوں میں ملا، اس ...

مجنون بالغ کی نماز جنازہ میں کون سی دعا پڑھی جائے گی؟

سوال : مفتی صاحب! عرض یہ ہے کہ ہمارے عزیز کو پانچ منٹ کا مدرسہ میں یہ پڑھنے میں آیا تھا کہ اگر کوئی بچہ پیدائشی پاگل ہو اور وہ سن بلوغت کی عمر میں انتقال کر جاۓ تو اسکی نماز جنازہ میں نابالغ بچوں کی جو دعا ہے وہ پڑھی جاۓ گی۔ اس پر رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ (المستفتی : آصف اقبال، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : پیدائشی مجنون یا بلوغت سے پہلے پہلے اگر کوئی مجنون اور پاگل ہوجائے اور اس کا انتقال بالغ ہونے کے بعد ہوتو اس کی نماز جنازہ میں نابالغ کی دعا پڑھی جائے گی، اس لیے کہ ایسا شخص شریعت کا مکلف نہیں ہے اور وہ نابالغ ہی شمار ہوگا۔ ہاں اگر بلوغت کے بعد پاگل ہوا ہے تو مدتِ بلوغت کے ایامِ صحت کی رعایت کرتے ہوئے یہ شخص بالغ شمار ہوگا، اور اس کی نمازِ جنازہ میں بالغ والی دعا پڑھی جائے گی۔   معلوم ہوا کہ آپ کے عزیز نے جو بات پڑھی ہے وہ درست ہے۔ والمجنون کالطفل ذکرہ في المحیط وینبغي أن یقید بالجنون الأصلي لأنہ لم یکلف فلا ذنب لہ کالصبي بخلاف العارضي فإنہ قد کلف وعروض الجنون لا یمحو ما قبلہ بل ہو کسائر الا...

قبر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال؟

سوال : ایک دس سالہ طالبہ کا سوال ہے کہ قبر میں منکر نکیر جو سوالات ہم سے کریں گے کیا وہ سوالات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیے گئے؟ جواب عنایت فرمائیں۔ (المستفتی : ضیاء الرحمن، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : انبیاء اور رسول، اللہ تعالیٰ کے منتخب بندے ہوتے ہیں جو معصوم عن الخطاء یعنی گناہوں سے پاک ہوتے ہیں۔ چنانچہ عقیدہ کی انتہائی اہم کتاب فقہ اکبر  میں لکھا ہے کہ حساب وکتاب اور قبر میں سوال وجواب کے حکم سے تمام انبیاء علیہم السلام مستثنیٰ ہیں، ان سے قبر میں سوال وجواب نہیں ہوتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ہے : حضراتِ انبیاء کرام ورسل سے قبر میں سوال نہیں ہوتا، منکر نکیر ان سے سوال نہیں کرتے۔ (رقم الفتوی : 603917) معلوم ہوا کہ تمام انبیاء ورسل سے قبر میں سوال وجواب اور حشر میں حساب وکتاب نہیں ہوگا، اور ہمارے آقا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تو انبیاء اور رسولوں کے سردار ہیں، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے بدرجہ اولی سوال نہیں ہوگا۔ واستثنی من عموم سوال القبر الأنبیاء علیہم السلام والأطفال و...

حضور کے نور کو دیکھ کر حضرت عائشہ کا بے ہوش ہونا

سوال : مفتی صاحب! درج ذیل واقعہ کی تحقیق فرمائیں۔ ​حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اتنا حسین بنایا! اور آپ کو،  ​یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا پڑے۔ اچانک ایسا نور چمکا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بے ہوش ہو گئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا اور ان کو ہوش آگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "عائشہ یہ تو صرف ایک جھلک تھی اللہ تعالیٰ نے مجھے 70 ہزار پردوں میں چھپا رکھا ہے۔ (المستفتی : لئیق احمد، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : آپ کا ارسال کردہ واقعہ کسی بھی صحیح، ضعیف بلکہ موضوع روایت میں بھی نہیں ہے۔ یہ موجودہ زمانہ میں گھڑا ہوا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ نیز حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار پردوں میں چھپا کر رکھا ہے، یہ بات بھی درست نہیں ہے۔ لہٰذا اس واقعہ کا بیان کرنا جائز نہیں ہے۔ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلّ...

ایک پیر کھڑا کرکے دوسرا پیر اس پر رکھ کر لیٹنا

سوال : محترم مفتی صاحب! کیا درج ذیل حدیث شریف درست ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی آدمی چت لیٹ کر ایک ٹانگ کو کھڑی کرکے دوسری ٹانگ کو اس پر نہ رکھے۔ (المستفتی : محمد ذاکر، مالیگاؤں)  ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم  الجواب وباللہ التوفيق : سوال نامہ میں مذکور روایت درست ہے اور مسلم شریف سمیت حدیث کی متعدد کتابوں میں موجود ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب ازار یعنی لنگی تنگ ہو اور ایسا کرنے سے ستر کھلنے کا اندیشہ ہو، اور اگر ازار کشادہ ہو یا پاجامہ پہنے ہوں جس سے ستر کھلنے کا اندیشہ نہ ہوتو پھر مذکورہ طریقہ پر لیٹا درست ہے، کیونکہ مسلم شریف کی دوسری روایت میں آیا ہے کہ عباد بن تمیم اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھے ہوئے چت لیٹے دیکھا۔  حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ الل...