ووٹر کا امیدوار سے کرایہ لینا
سوال : مفتی صاحب! سوال یہ ہے کہ کیا ووٹ ڈالنے کے لیے لمبا سفر ہے جو پارٹی کا ممبر کھڑے ہوا ہے وہ چاہتا کے آپ آئے کرایہ ہم آپ کو دیں گے، کیا کرایہ کا پیسہ لینا جائز ہے؟ (المستفتی : محمد طیب، بیڑ) ----------------------------------------------- بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : ووٹ کو شریعتِ مطہرہ میں شہادت کہا گیا ہے اور شہادت وگواہی پر اجرت کا لین دین حلال نہیں ہے، البتہ اگر کسی کو ووٹ دینے کے لیے سفر کرکے آنا پڑے اور کوئی امیدوار اسے کرایہ دے تو اس کے لیے صرف کرایہ لینے کی گنجائش ہے، کیونکہ یہ اجرت نہیں ہے، اور کرایہ سے زیادہ لینا جائز نہیں ہے۔ ذہب جمہور الفقہاء إلی أنہ : لا یحل للشاہد أخذ الأجرۃ علی أدائہ الشہادۃَ إذا تعیّنت علیہ، لأن إقامتہا فرض، قال تعالی : {وأقیموا الشہادۃَ للّٰہ}۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ : ۲۶/۲۳۷)فقط واللہ تعالٰی اعلم محمد عامر عثمانی ملی 08 جمادی الآخر 1447