شرٹ پر کرسچن لکھا ہونا یا صلیب بنی ہونا
سوال : مفتی صاحب! ایک شرٹ کا برانڈ ہے جسکا نام کرسچن ڈیور ہے اور سلیب کا نشان بھی بنا ہوا ہے۔ یہ پہننا کیسا ہے اور اس پر نماز ہو جائے گی؟ مالیگاؤں میں کافی لوگ پہن رہے ہیں۔ (المستفتی : شاداب انجینئر، مالیگاؤں) ------------------------------------------------ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب وباللہ التوفيق : عیسائیوں کو کرسچن کہا جاتا ہے اور Dior (ڈائر) فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی گولڈن کے آتے ہیں۔ کرسچن ڈائر اگرچہ ایک برانڈ کا نام ہے، لیکن چونکہ کرسچن لفظ بہرحال ایک مذہب کی طرف منسوب ہے۔ اس لیے کسی مسلمان کے لیے ایسے کپڑے پہننا جس پر کسی دوسرے مذہب کا نام لکھا ہو دیگر مسلمانوں کے لیے کھٹک کا باعث بنے گا، جس پر نماز پڑھنا بھی کراہت سے خالی نہیں ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں کرسچن ڈائر لکھی ہوئی ٹی شرٹ پہننے سے بچنا ضروری ہے۔ صلیب کا نشان عیسائیوں کا مذہبی شعار اور ان کی پہچان ہے، اس لیے مسلمانوں کے لیے ایسے کپڑے پہننا جس میں صلیب بنی ہوئی ہو ناجائز ہے۔ اگر ایسے کپڑوں میں نماز پڑھی جس میں پر صلیب بنی ہوئی ہے تو یہ نماز بھی مکروہ تحریمی ہوگی۔ (وَلُبْسُ ثَوْبٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ) ذِي رُوحٍ،...