شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا گھومنے جانا
سوال : محترم مفتی صاحب ! اِدھر کچھ عرصے سے شہر عزیز میں دیکھا جا رہا ہے کہ، بیویاں مائیکے جاتی ہیں تو وہاں سے اپنی بہنوں/سہیلیوں کے ساتھ (چاہے ساتھ میں کوئی بزرگ خالہ ہو، ماں ہو، مگر محرم مرد نہیں ہوتا) کے ساتھ شہر کے اطراف ہوٹلوں میں ، کیمپ میں موجود بہت سارے گارڈن، عید گاہ گراؤنڈ میں کھانے کھیلنے کی جگہ بنام چوپاٹی، وغیرہ پر سیر و تفریح کے لیے نکل جاتی ہیں. اور اب نیا سلسلہ یہ ہے کہ شہر کے مغربی علاقے میں D - Mart چلی جاتی ہیں۔ موتی باغ ناکہ سے گرنا پل ہوتے ہوئے بیشمار خواتین بچوں کے ساتھ پیدل دکھائی دیتی ہیں۔ کچھ معاملات اس طرح بھی ہوئے کہ جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے شوہر اپنے دوستوں کے ساتھ کہیں نکلا تو بیوی مع سہیلیوں یا بہنوں کے اس سے ملاقات ہو گئی. لفظی نوک جھوک پر بیوی یا بہن، کا کہنا ہوتا ہے کہ تم بھی تو گھومنے نکلے ہو نا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح بغیر شوہر کے علم میں لائے بیوی مائیکے سے بغیر محرم، یا پھر محرم کے ساتھ کہیں گھومنے پھرنے جا سکتی ہے؟ ہو سکتا ہے کہ لوگ اس معاملے کو اگنور کرتے ہوں، مگر آگے چل کر یہ معاملہ بڑھتے جائے گا۔ (المستفتی : عمران الحسن، مالیگاؤں) ------------...